تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 388 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 388

۳۸۲ تیسری ہدایت حضور نے مقررین کے لئے دی جو یہ تھی کہ جب ایک واعتہ کھڑا ہوتا میسری ہدایت ہے تو اس وقت وہ سامعین کو کچھ بتانے کے لئے کھڑا ہوتا ہے پیں اسے لوگوں سے گھبرانے کی کیا وجہ ہے ؟ جو اس سے سیکھنا چاہتے ہیں ہیں تقریر آہستگی کے ساتھ کہنی چاہئیے۔پھر آہستہ آہستہ جب سامعین کے دماغوں اور تقریر کرنے والے کے دماغ میں توازن قائم ہو جائے تو بے شک وہ اپنی آواز بلند کر رہے اور الفاظ بھی جوش سے ادا کرے لیکن اگر وہ شروع میں ہی جلدی جلدی بولنے لگ بھاتا ہے تو سامعین تاڑ جاتے ہیں کہ وہ ان سے ڈر رہا ہے اس لئے وہ اس کا اثر قبول نہیں کرتے یہ حضور کی چوتھی ہدایت یہ تھی کہ ہمارے طلباء مطالعہ کے لئے بہت کم وقت نکالتے چوتھی جو بھی ہدایت ہیں اپنے وقت میں سے ہمیشہ ایک حصہ زائد مطالعہ کے لئے بھی نکالنا چاہیئے۔ہما را اندازہ ہے کہ ایک اچھا پڑھنے والا ایک گھنٹہ میں اوسطاً ہر صفحے پڑھتا ہے۔عربی ٹائپ ذرا چھوٹا ہوتا ہے اور کتاب کے صفحات بڑے ہوتے ہیں اس لئے اگر آپ لوگ زائد مطالعہ کے لئے ایک گھنٹ روزانہ بھی دیں تو اوسطاً دس پندرہ صفحات فی گھنٹہ پڑھے جا سکتے ہیں۔اس ضمن میں حضور نے یہ بھی بتایا کہ اسی لئے لیکں نے عربی کتابیں منگوا کر دی ہیں جن میں علیم ادب، عظیم تاریخ ، فلسفہ، منطق، صرف و نحو ، علم نحو علم معانی اور دوسرے علوم پر لکھی ہوئی کتابیں موجود ہیں۔میرا منشاء یہی ہے کہ ایک دو سال میں دس پندرہ ہزار روپیہ صرف کر کے ایک لائبریری بنائی جائے جو کالج کے لحاظ سے مکمل لائبریری ہو چنا نچہ اس سلسلہ میں میں نے انگریزی کی بعض کتابیں بھی منگوا کر دی ہیں۔یہ کتابیں مختلف علوم کے متعلق ہیں ؟ مقالہ (THESIS) لکھنے کے بارے میں اساتذہ اور طلبہ دونوں کو مخاطب کر کے پانچویں ہدایت به خاص ہدایت فرمائی کہ یہ :- مضمون ایسے رنگ میں بیان کرو کہ پڑھنے والا اسے سمجھ سکے۔اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے لئے بطنی عنوان مقرر کئے جائیں پھر ماہرین کی ایک کمیٹی اس پر غور کرے اور اس کی ترتیب بھی بتائے پھر لٹریچر بھی بتایا جائے کہ کون کو ایسی کتابوں میں یہ مضمون مل سکتا ہے۔۔۔۔پیر تھیں کے لئے ضرور کیا ہے کہ اس کے عنوان مقرر ہوں، اس کی ترتیب بتائی بہائے اور کچھ مشورہ دیا سہائے کہ ایمضمون فلاں فلاں کتا یہا سے مل سکتا ہے۔پھر ضمون زیادہ لمبا نہیں ہونا چاہیے۔ایم۔اے میں جو تھیس (THESIS) لکھے جاتے ہیں وہ بھی پچاس ساٹھ صفحات کے ہوتے ہیں۔اگر مضمون چھوٹے ہوں گے تو نخواہ لکھنے والا پہلے