تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 387
۳۸۱ افسوس اور خطرے کے احساس کے ساتھ اپنی قوم میں خطرناک متعصبانہ رجحانات کو دیکھ رہے ہیں۔یہ بات کہ یہ حالات بالآخر مسٹر لیاقت علی خان کے قتل کے کس حد تک ذقتہ دار ہیں اس کا معلوم کرنا آسان نہیں ہے لیکن یہ واقعہ ہے کہ یہ ہمارے جید قومی میں داخل ہو گئے ہیں اور بہت سے لوگ پہلے ہی حیران ہیں کہ ہماری قومی زندگی ان سے کس طرح نجات حاصل کرے گی بیشتر اس کے کہ وہ اس کو کوئی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہو ان رہ جحانات سے ملک کو کتنا خطرہ ہے۔اس بات پر کمیشن نے پوری طرح زور دے دیا ہے اور حکومت کو اس نے متنبہ کر دیا ہے کہ اگر اُن کو اپنے رُخ پر جاری رہنے دیا گیا تو اس سے پاکستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ واقع ہو گی۔اے حضرت مصلح موعود کی پانی امام ہدایات اور اکتوبر کو بعد از صر جماعت احمدیہ کی تجدید مرکزی درس گاہ جامعتہ المبشرین کی ایک الوداعی تقریب میں جمعتہ المبشری کی طرف سے سب سے پہلے کامیاب ہونیوالے مبلغین کو الوداعی پارٹی دی جس میں حضرت امیر المومنين المصلح الموعود نے بھی از راه شفقت و ذرہ نوازی شرکت فرمائی اور ایک معلومات افروز تقریر کے ذریعہ اساتذہ اور طلباء جامعہ کو پانچ نہایت اہم اور قیمتی ہدایات سے نوازا جو تحقیق و تشخص اور علمی ترقی کے میدان میں ہمیشہ خضر راہ ثابت ہوں گی۔حضور پر نور نے اپنے خطاب کے شروع میں پہلی ہدایت یہ فرمائی کہ طلباء کی صحت کا پہلی ہدایت خیال رکھا جائے اور وہ اس کے مقابل پرمحنت کا خیال رکھیں ؟ دوسری اہم چیز جس کی طرف حضور نے توجہ دلائی وہ یہ تھی کہ عربی زبان میں یہ دوسری ہدایت خصوصیت ہے کہ اس کا ہر حرف الگ پڑھا جاتا ہے۔جب تک ہر حرف کو الگ نہ پڑھیں تلفظ ٹھیک نہیں ہوتا۔دوسری زبانوں میں ہم حروف کو ایک دوسرے میں مخلوط کر دیتے ہیں لیکن عربی زبان میں ہم حروف کو ایک دوسرے میں مخلوط نہیں کر سکتے۔۔۔حروف کو ایک دوسرے میں مخلوط کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کے معنی کچھ نہیں نہیں گے۔۔۔یہ دست درازی کم از کم قرآن کریم پر نہیں ہونی چاہیئے تیرہ سو سال سے مسلمانوں نے اس کو محفوظ رکھا ہے تمہیں بھی اسے محفوظ رکھنا چاہیئے اور قرآن کریم کی تلاوت پر خاص تو سمجہ دینی چاہئیے " انه بخوان اخبار کوتر لاہور ۲ ستمبر ۱۱۹۵۲ ص) (جماعت اسلامی کا ترجمان )