تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 382
تھے لیکن حکومت نے ائی کو منع نہ کیا جس کی وجہ سے یہ گندہ زیادہ پھیل گیا۔تم اگر کسی کو کہتے ہو کہ فلان کو مارو مثلاً بیچتے ہیں ماں باپ یا بہن بھائی کھیل کے طور پر بعض دفتہ انہیں سکھاتے ہیں کہ فلاں کو بارو تو وہ مارتے ہیں اور ماں باپ بہن بھائی اس پر پہنتے ہیں۔دوسرے دن وہ بچے ماں باپ کے منہ پر تھپڑ مارتے ہیں اور اُس وقت روکنا کوئی معنے نہیں رکھتا۔ایک دفعہ اگر تم انہیں کہو گے کہ فلاں کو مارو تو وہ پھر دوسروں کو ماریں گے اور تم روک نہیں سکو گے۔پس یکی حکومت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ افراد کی ذہنیت کو بدلے ورنہ امن قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔لیڈر مرتے جائیں گے اور نئے لوگوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔پھر مولویوں اور دوسرے لوگوں کی جانیں بھی محفوظ نہیں ہوں گی۔روس میں دیکھ لو زار نے جو طریق رعایا سے اختیار کیا تھا وہی طریق رعایا نے اُس کے خلاف پھلایا۔پس یہ کھیل محدود نہیں چلے گی۔ہمارے خلاف پر کھیل کھیلا گیا تھا لیکن آخر پاکستان کے نہایت اہم اور ابتدائی لیڈر کے خلاف ایک بدباطن نے وہی حربہ چھلا دیا کیونکہ دلوں سے قانون کے ادب اور سوچنے اور نفس پر قابو پانے کا جذبہ مٹا دیا گیا تھا۔اگر یہ بات جاری رہی تو ایک دن یہ مولوی د بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔خود انہی کے متعلق کسی بات پر خفا ہو کر ان پر بھی حملے کریں گے۔میری عمر کوئی دس گیارہ برس کی ہوگی کہ میں امرتسر گیا اور دیکھا کہ ایک مولوی صاحب بڑی داڑھی والے مہ پہنے ہوئے اور ہاتھ میں عصا لئے جا رہے تھے۔اُن کے پیچھے پیچھے ایک اور آدمی تھا جو ہاتھ جوڑتا اور اُن کی منتیں کرتا جا رہا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ یکی مفلس و غریب ہوں میری حالت پر رحم کھائیں۔اور مولوی صاحب پیچھے مڑ کر اُسے گھورتے اور کبھی کبھی گالی بھی دے دیتے تھے۔جب مولوی صاحب دور نکل گئے ہیں نے اُس شخص سے پوچھا کیا بات ہے ؟ اس نے بتایا کہ میں نے اس خبیث کے پاس ایک سو روپیہ رکھوایا تھا اب واپس مانگتا ہوں لیکن یہ واپس نہیں دیتا۔سو مولویوں میں حرام خور بھی ہیں، ظالم بھی ہیں اور ان میں دوسرے عیوب بھی پائے جاتے ہیں۔اس سے اگر انہوں نے ایسی تعلیم دی تو ایک نہ ایک دن ان پر بھی وار ہوگا۔کیونکہ ہو نہیں سکتا کہ ان سے کسی اور کو اختلاف نہ ہو۔اصل امن والی تعلیم قرآن کریم کی ہے۔یہ کتنی پاکیزہ تعلیم ہے کہ حکومت کے سوا کسی کو شرعی تصویر دینے کا اختیار نہیں۔اور حکومت بھی اسی تعزیر کا اختیار رکھتی ہے جوں کا اختیار اسے قرآن کریم نے دیا ہے۔۔گویا پہلے عوام کے ہاتھ بند کئے پھر حکومت کے ہاتھ یہ کہ کر بند کر دیئے کہ تم بھی قضاء کے ذریعہ ہی