تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 381 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 381

۳۷۵ نے قاتل کو پیٹ پیٹ کر مار دیا تھا۔اگر ایسا ہوا تو یہ اور بھی افسوسناک امر ہے کیونکہ اس سے سازش کے کھلنے کا امکان بہت کم ہو گیا۔پولیس کو فوراً اس شخص کے گرد گھیرا ڈال لینا چاہیئے تھا اور اُسے زندہ گرفتی کرنا چاہیے تھاتا اس کے ذریعہ سے اصل سازش کا سُراغ مل سکتا۔اس کا بچاتا اس کی خاطر ضروری نہیں تھا بلکہ اس کا بچا نا ملک کی خاطر ضروری تھاتا اس سے سازش کا پتہ لگایا جاتا ممکن ہے تحقیقات سے یہ معلوم ہو کہ حفاظت کا ہر مکن انتظام کر دیا گیا تھا اور بعض وہم ہے کہ اس میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے بلکہ یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا جو ہو گیا۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی مجرم بھی بل بجائے لیکن اِس سے یہ امر حمل نہیں ہو سکتا کہ مولویوں نے افراد کی ذہنیت خواب کر دی ہے۔جب تک یہ ہوتا رہے گا اور قانون ہاتھ میں لینے کا وقف ہوتا رہے گا نہ پولیس کام دے سکے گی نہ فوج کیونکہ جب افراد کے ذہنوں کو گندہ کر دیا جائے اور قانونہ کے ادب کو ختم کر دیا جائے اور اختلاف کی صورت میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی تعلیم دی بجائے تو پھر کس کس پر شبہ کیا جائے گا یا کس کس کو شبہ سے بالا سمجھا جائے گا۔اس صورت میں خود وزراء کے ایڈی کا نگوں پر بھی شبہ ہو سکتا ہے کہ شاید اُن کے دل میں بھی قتل کا خیال ہو۔کیونکہ اگر افراد کی ذہنیت کو بگاڑ دیا جائے تو پھر خواہ کوئی سیکرٹری ہو یا ایڈسی کانگ وہ اپنے افسر سے ناراض ہو سکتا ہے اور اختلاف رائے کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا ارادہ کر سکتا ہے۔جن ملکوں میں یہ کھایا جاتا ہے کہ حکومت کا کام ہے کہ کسی شخص کو مجرم قرار د سے افراد کو یہ اختیار حاصل نہیں وہ ملک پر امن ہیں۔اس قسم کی پابندی سب سے زیادہ انگلستان میں ہے اور وہ پر امن ہے۔امریکہ کتنی بڑی جمہوریت ہے لیکن وہاں افرا دپر کنٹرول نہیں کیا جاتا اس لئے وہاں فساد ہوتے ہیں۔جرمنی والے بھی قانون کے پابند ہیں اس لئے وہاں فساد نہیں ہوتے۔بے شک ہٹلر کے وقت میں حکومت کی طرف سے رعایا پر سختیاں ہوئیں لیکن یہ کہ افراد ایک دوسرے پر سختی کریں یہ کبھی نہیں ہوا۔اور ملکوں میں بھی یہ طریق پایا جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ محفوظ انگلستان ہے اور اس کے بعد جرمنی ہے۔پھر دوسرے ممالک میں انسانوں کے ہاتھوں سے مارے جانے والے بالعموم وہ ہوتے ہیں جو ملک میں بدنام ہوتے ہیں لیکن یہاں اندھیر یہ ہے کہ ہندوستان میں گاندھی جی کو مارا جاتا ہے جنہیں وہاں نبی کہا جاتا تھا اور را دهر پاکستان میں خان لیاقت علی خان کو مارا جاتا ہے جن کو ملک کی آزادی کو برقرار رکھنے والا اور اسکو ترقی دینے والا کہا جاتا ہے۔یہ حض مولویوں کی ذمہ داری ہے۔یہ کھیل ہے جو وہ ہمارے ساتھ کھیل رہے