تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 380
۳۷۴ حکومت کی طرح میرا خیال بھی یہ ہے کہ جلسہ کا انتظام ٹھیک نہ تھا۔قادیان میں مساجد میں میری یہ ہدایت تھی کہ پہلی صف میں معروف لوگ بیٹھیں۔اب پھر سے لگا دیئے گئے ہیں مگر یہ ہر گز ویسے مفید نہیں۔انسانی فطرت میں یہ بات ہے کہ جب کوئی دوسرا آدمی سامنے ہو تو انسان کسی پر وار کرنے سے گھبراتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ کسی دوسرے شخص کو گولی نہ لگ جائے۔پھر وہ اس وجہ سے بھی گھبراتا ہے کہ اگر اس کا پہلا وار بھی خلال گیا تو وہ پکڑا جائے گا۔اس لئے منتظمین کو چاہیئے تھا کہ وہ جلسہ کا انتظام کرتے وقت سٹیج کے سامنے معروف لوگوں کو بٹھاتے۔پھر یہ بتایا گیا ہے کہ قاتل نے خان لیاقت علی خان کو مائنہ پستول سے مارا ہے۔وہ بڑا پستول ہوتا ہے اور بڑے پستول کو چھپایا نہیں جاسکتا۔اتنی بڑی چیز لے کر وہ شخص سٹیج کے سامنے بیٹھا ہوا تھا یا وہ جیب میں ڈالے ہوئے تھا لیکن کسی شخص کو قبل از وقت اس کا علم نہیں ہوسکا۔پھر کہتے ہیں کہ وہ شخص چادر اوڑھے ہوئے تھا۔یہ بات اور بھی زیادہ خطر ناک ہے۔ہمارے ہاں بھی آنی العقیاط کر لی جاتی ہے کہ جب کوئی شخص ملاقات کے لئے آئے اور وہ چادر اوڑھے ہوئے ہو تو منتظم اس کی چادر اتروا دیتے ہیں حالانکہ یہاں ملاقات والے اکثر مرید ہوتے ہیں بعض لوگ جوشیلے ہوتے ہیں اور وہ میرے پاس شکایت کرتے ہیں کہ ہماری اس طرح ہتک کی گئی ہے تو میں انہیں سمجھاتا ہوں کہ آپ تو مخلص ہیں لیکن کوئی بدمعاش بھی تو اس طرح یہاں آسکتا ہے۔پچھلے دنوں مسلم لیگ کے ایک نمبر مجھے ملنے آئے۔وہ مجھے اندر آتے ہی کہنے لگے کہ وہ اپنا پستول باہر چھوڑ آئے ہیں کیونکہ انہوں نے پسند نہیں کیا کہ پستول لے کر اندر آئیں۔اور در حقیقت یہ عام اور ضروری احتیاط ہے۔لیکن اس شخص کے پاس مائز ر پستول تھا جو بڑے سائز کا ہوتا ہے لیکن کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ پستول پکڑے ہوئے ہے یا اس کی جبیب میں کوئی بڑی چیز ہے۔پھر جب وہ شخص فائر رتا ہے تب بھی اسے کوئی دیکھتا پھروہ فائر کرنےکی بھی کرتا ہے۔اس سے کرتا ہے تب بھی اُسے کوئی نہیں دیکھتا۔پھر وہ دوسرا فائر کرنے کی بھی جرات کرتا ہے۔اس سے شعبہ پڑتا ہے کہ اس کے دائیں اور بائیں اُس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔یہ امر اور بھی خطرناک ہے کہ وہ آدمی مارا گیا۔تمام متمدن دنیا میں ایسے آدمی کو مارا نہیں جاتا تا سازش پکڑ ہی بھائے۔اس سے یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید اس کے ساتھ اُس کا کوئی دوسرا ساتھی بھی تھا۔انارکسٹر اسی طرح کرتے ہیں۔وہ جب کسی شخص کو کسی لیڈر کے مارنے پر مقرر کرتے ہیں تو ایک اور شخص کو اُس کے مارنے پر بھی مقرر کر دیتے ہیں تا وہ پکڑا نہ جائے لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لوگوں