تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 379
۳۷۳ ہو جائے تو فوراً قانون ہاتھ میں لے لو۔یہ ذہنیت جتنی جتنی پھیلتی جائے گی اتنی اتنی پولیس اور فوج بیکار ہوتی جائے گی۔پولیس اور فوج محدود ہوتی ہے اور وہ ایک سیر تک ملک میں کنٹرول کر سکتی ہے۔صوبہ پنجاب کی پولیس کوئی آٹھ دس ہزار ہے لیکن آبادی دو کروڑ ہے۔اب آٹھ دس ہزار پولیس سے یہ امید کہ ناکہ وہ دو کروڑ کی نگرانی کر سکے گی درست نہیں۔صوبہ میں زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد ی مجرم ہو سکتے ہیں گویا کوئی دس لاکھ آدمی ایسے ہو سکتے ہیں جو لوٹ مار، ڈا کے ، نقب زنی اور قتل و غارت کو جائز سمجھتے ہیں۔ان دس لاکھ آدمیوں کو پولیس کہاں سنبھال سکتی ہے۔اسی واسطے ملک میں کوئی چھ سات ہزار چوری ہوتی ہے لیکن کوئی نہیں کہتا کہ ایسا کیوں ہے۔کیونکہ اس قدر نگرانی کی پولیس سے امید ہی نہیں کی جا سکتی۔یہ فردی خرابی ہے اور فرد کی نگرانی نہیں کی جا سکتی۔اگر کوئی قومی خیال ہوتا ہے تو اس تنظیم کا کوئی پریذیڈنٹ ہوتا ہے۔کوئی سیکرٹری ہوتا ہے اور اس طرح اس کا پتہ چل جاتا ہے لیکن جہاں فرد کے دماغ کو بگاڑ دیا جائے وہاں کوئی پولیس کام نہیں دے سکتی مثلاً اگر کوئی کمیونسٹ جماعت ہو تو اس کا کوئی پریذیڈنٹ ہو گا۔کوئی سیکر ٹری ہوگا اور کوئی کنونیز ہو گا۔اور اس سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ لوگ فلاں فلاں ہیں اور فلاں فلاں جگہ ان کا مرکز ہے اور پیران کی نگرانی کی جا سکتی ہے لیکن اگر کوئی فرد کوئی ارادہ کر دے تو اس کی نگرانی نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس کی سکیم اس کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے اور کوئی ذریعہ ایسا نہیں کہ اُسے معلوم کیا جا سکے مثلاً کوئی پریذیڈنٹ نہیں، کوئی سیکرٹری نہیں کوئی دفتر نہیں جس میں جمع ہونیوالوں سے معلوم ہوسکے کہ کچھ لوگ مل کر کوئی کام کر رہے ہیں اور اس سے ان کی نگرانی کی صورت پیدا ہو جائے۔یہاں بھی چونکہ ایک فرد تھا جس نے خباثت کی اس لئے اس کی خباثت کا قبل از وقت پتہ نہیں لگ سکا تھا سب باتیں اس کے دماغ میں تھیں۔پس فرد کے دماغ کو بگاڑ دینے سے امن پر یاد ہو جاتا ہے۔جب کوئی سازش تنظیم سے ہوتی ہے تو اس کا پتہ لگانا آسان ہوتا ہے لیکن جب افراد کے دماغ بگڑ جائیں تو کوئی چیز اُن کی نگرانی نہیں کر سکتی۔چونکہ مولویوں نے افراد کے دماغوں کو گندہ کر دیا ہے، اس لئے مزید خباثت کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ ان مولویوں کو روکا جائے۔یہی لوگ دماغ کو صحیح بنانے والے بھی ہیں بشرطیکہ ان میں ایمان ہو۔اور یہی لوگ دماغ کو گندہ کر دیتے ہیں، جب ان میں ایمان نہیں ہوتا۔پیس میرے نزدیک ان خطرات کو دور کرنے کا ذریعہ یہ ہے کہ مولویوں کو افراد کی ذہنیت خراب کرنے سے روکا بھائے۔۔