تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 378 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 378

۳۷۲ کا جواز جھوٹا مذہب دیتا ہے کیونکہ مولوی کھلے بندوں سیڑھی پر چڑھ کر یہ کہتا ہے کہ جس شخص کی بات تمہیں بری لگے تو تم اسے مار دو گلنے والے اسی نکتہ کو وسیع کرتے ہیں اور اپنے دشمنوں پر بھی یہ فتوی لگا دیتے ہیں یجب تک حکومت اس منبع کو ختم نہیں کرتی ملک میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔حکومت نے ایک کمیشن مقرر کیا ہے جو اس بات کی تحقیقات کرے گا کہ حفاظتی تدابر میں کیوں کو تا ہی ہوئی ہے۔یکی نے بھی جب یہ بر سنی تھی تو جہ پر یہی اثرتا کہ منتظمین نے پوری طرح نگرانی نہیں کی۔اب معلوم ہوا ہے کہ حکومت پر بھی یہی اثر ہے۔لیکن تم کتنی بھی ہوشیاری کر لو جب افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے گا کہ جس کسی سے اخستان ہو تم اسے مارد و تو کونسی طاقت ہے جس کے ذریعہ تم کسی کو کروڑ افراد سے بچالو۔لاہور ہیں جو صوبہ کی حکومت کا مرکز ہے وہاں آکر احراری علماء نے یہ حدیثیں سنائیں کہ تم جو چیز نا پسندیدہ دیکھو اسے ہاتھ سے دور کر دو۔اگر تم ہاتھ سے دور نہیں کر سکتے تو زبان سے اس کی مذمت کرو۔اور اگر تم زبان سے بھی اسکی برائی نہیں کر سکتے تو دل میں ہی بڑا مناؤ اور ان کو احمدیوں پر چسپاں کر کے کہا گیا کہ اسے با غیر مسلمانو ! کیوں رسول اللہ صلعم کی بہتک کا بدلہ نہیں لیتے۔ان مجالس میں جن میں یہ حدیثیں سنائی جاتی تھیں حکومت کے بعض وزراء اور اس کے سیکرٹری موجود ہوتے تھے۔جب کھلے بندوں اور حکومت کے ذمدار کارکنوں کے سامنے یہ سنایا جاتا تھا کہ اختلاف کا ازالہ جبر اور تعدّی سے کرنا جائزہ ہی نہیں بلکہ فرض ہے، اور اگر تم اختلاف کا ازالہ نہیں کرتے تو تم کافر ہو جاؤ گے۔جب ملک کے آٹھ کروڑ باشندوں میں یا اساس پیدا کر دیا جائے تو پولیس تو ایک فرد سے بچا سکتی ہے۔دو افراد سے بچا سکتی ہے یا میں افراد سے بچا سکتی ہے لیکن جب یہ شک ہو کہ ایڈی کانگ اور پولیس والوں نے بھی علماء سے یہ سبق لیا ہے کہ جس کسی سے اختلاف ہوا سے قتل کر دو تو کسی کی بھان کیسے محفوظ رہ سکتی ہے۔سو جب تک مولویوں کو بند نہیں کیا بھائے گا کسی کی حفاظت نہیں ہو سکے گی۔نہ میری ، نہ کسی وزیر، گورنر یا کمانڈر انچیف کی۔انگلستان کی حکومت سینکڑوں سال سے قائم ہے لیکن ابھی تک اس میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ کوئی وزیر قتل کر دیا گیا ہو لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں بعض افسروں پر حکومت کو شبہ پڑ جاتا ہے کہ وہ زور سے حکومت کا تختہ الٹ دینا چاہتے ہیں۔اگر چہ ابھی مقدمہ چل رہا ہے لیکن ہر حال اس قسم کا واقعہ ہو چکا ہے۔ادھر ہندوستان میں گاندھی بھی کو جنہیں وہاں نئی وقت کہا جاتا تھا مار دیا گیا ہے۔اس کی وجہ صرت ایک ہے کہ مولویوں اور پنڈتوں نے یہ شور ڈالنا شروع کیا ہے کہ جب تمہیں کسی شخص سے اختلاف پیدا I