تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 377
حکومت سے پیار نہیں رکھتی تو وہ کتنا دلیر ہو جائے گا۔غرض قومی لحاظ سے یہ واقعہ جو خان لیاقت علی خان کے ساتھ گذرا نہایت خطرناک ہے لیکن مجھے یہ مضمون خطبہ جمعہ میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن اسکے متعلق الگ مضمون بھی لکھ سکتا تھا۔لیکں نے اس مضمون کو خطبہ جمعہ میں بیان کرنے کے لئے اس لئے انتخاب کیا کہ اس کا ایک مذہبی پیکو بھی ہے یعنی یہ فعل نتیجہ تھا اسلام کی تعلیم کو بگاڑنے کا۔یہ عمل تیجہ تھا احمرار لوں کے وعظوں کا کہ احمدیوں کو قتل کر دور جس قوم میں یہ روح پیدا کر دی جائے کہ جس کسی سے تمہیں اختلاف ہو تم اُسے خروقتل کر دو تو ملک کا کوئی آدمی بھی محفوظ نہیں رہ سکتار مثلاً ایک احراری کھڑا ہوتا ہے اور کرتا ہے کہ احمدیوں کو مار دو لیکن ایک دوسرا شخص جس کو احمدیوں سے بغض نہیں ہوتا وہ جب یہ سمجھتا ہے کہ جس کسی سے اختلاف ہو اُسے خود مار دینا چاہئیے تو وہ کسی دوسرے شخص کو جس سے اُسے اختلاف ہو گا مار دے گا۔پس یکی کہتا ہوں کہ بے شک قومی لحاظ سے خان لیاقت علی خان کا قتل نہایت افسوس کی بات ہے اور سیاسی لحاظ سے یہ امر ملک کے لئے نہایت نقصان وہ ہے لیکن اس کا مذہبی پہلو اور بھی خطرناک ہے اور وہ یہ ہے کہ ہماری سیاست تو گئی تھی اب مذہب پر بھی حملہ ہو گیا ہے اور دنیا گھتی ہے کہ ہم وحشی ہیں اور جسے چاہتے ہیں قتل کر دیتے ہیں۔کسی نے کہا ہے کیا زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجے دہن بگڑا سیاست پر تو ہمارے حملہ ہوا ہی تھا اب مذہب پر بھی حملہ ہو گیا ہے۔دنیا اس بات سے فاضل نہیں کہ احراری کیا کہتے ہیں۔احراری مولوی علی الاعلان سٹیجوں پر چڑھ کر کہتے ہیں کہ تم احمدیوں کو قتل کیوں نہیں کرتے لیکن کوئی انہیں منع نہیں کرتا۔حکومت کا نظام موجود ہے۔گورنر جنرل اور سنٹرل وزراء اور صوبائی گورنر اور صوبائی وزراء اور دوسرے سیکرٹری موجود ہیں لیکن احراری اس کے باوجود ٹیموں پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ حکومت اپنے فرض کو ادا نہیں کر رہی۔اسے جانباز مسلمانو! تم خود رسول کریم کی ہتک کا بدلہ لو (حالانکہ یہ اعماری خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والے اور ننگ اسلام ہیں ) اور احمدیوں کو قتل کر دو۔اور جب یہ فتونی رعایا کے سامنے لایا جائے گا کہ اسلام، قرآن کریم اور قانونی سب اس بات پر متفق ہیں کہ جس کسی سے تمہیں اختلاف ہو تم اُسے مار دو تو صرف احمدیوں ہی کو نہیں مارا جائے گا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی جس سے کسی کو اختلاف ہو گا مار دیا جائے گا۔بخان لیاقت علی خان سیاسی اختلاف کی وجہ سے نہیں مارے گئے کیونکہ سیاست دوسرے شخص کے مارنے کو جائز قرار نہیں دیتی۔مادر نے