تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 375 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 375

٣٦٩٠ موقع نہیں ملتا اور اس طرح اس کی اولاد، اس کا خاندان اور اس کی قوم اس کے تجربات سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی لیکن سب سے اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ ایسی موت جو اچانک آجاتی ہے مثلاً اگر کسی کی حرکت قلب بند ہو بھاتی ہے اور وہ فوراً مر جاتا ہے تو کسی شخص پر افسوس نہیں ہوتا لیکن جب یہ موت کسی انسان کے ہاتھوں سے ہو تو جہاں تک مرنیوالے کا سوال ہے یہ کوئی بہ سی بات نہیں اُس نے بہر حال مرنا تھا۔بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ موت موتبو الے کے لئے آرام وہ ہے۔گولی لگی اور مرگیا۔اس طرح اسے زیادہ تکلیف نہ ہوئی لیکن خاندانی اور قومی لحاظ سے اس میں کئی قباحتیں ہوتی ہیں۔ایک قباحت تو میں نے بتادی ہے کہ مرنیوالے کو وصیت کا موقع نہیں ملتا اور اس طرح اس کی اولاد ، اس کا خاندان اور اس کی قوم اس کے تجربات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔دوسری قباحت یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی قومی خادم کسی انسان کے ہاتھوں مارا جاتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ قومی اخلاق میں بہت کچھ خوابی پیدا ہو چکی ہے کیونکہ کام کے تسلسل سے قوم ترقی کرتی ہے اور جب افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ہم آپ ہی آپ اپنا مفتی نے سکتے ہیں تو اس کے منے یہ ہیں کہ تسلسل قائم نہیں رہ سکتا اور قوم حکومت پر اعتبار کرنے کی بجائے خود بدلہ لے لیتی ہے۔حالانکہ تسلسل محکومت سے قائم رہتا ہے۔اگر افراد میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ وہ اپنا بد لہ آپ لے سکتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ حکومت کو بیکار سمجھتے ہیں۔اگر یہ احساس کہ ہم اپنا بدلہ خود لے سکتے ہیں ساری قوم یا اس کے اکثر افراد یا اس کے بعض افراد میں پیدا ہو جائے تو حکومت قائم نہیں رہ سکتی وہ حکومت آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ٹوٹ جائے گی اور اس کا نظام باقی نہیں رہے گا۔پس وہ واقعہ جو خان لیاقت علی خان کے ساتھ گزرا جہاں تک ان کا اپنا سوالی ہے یہ کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ وہ نسبتاً آرام میں رہے کیونکہ اگر وہ کسی اور ذریعہ سے وفات پاتے تو دس پندرہ دان بیماری کی تکلیف اُٹھاتے۔اب چونکہ وہ گولی لگنے سے یکدم مرگئے ہیں اس لئے یہ موت ان کی ذات کے لئے آرام وہ ثابت ہوئی ہے لیکن قومی لحاظ سے یہ بہت خطرناک چیز ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ پاکستان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والوں میں نظام کی پابندی کا احساس باقی نہیں رہا۔مان لیا کہ قاتل کابل کا رہنے والا تھا لیکن وہ پاکستان میں آبسا تھا اور پاکستان کی قومیت کو اُس نے قبول کر لیا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قاتل کو کسی غیر قوم نے اس ذلیل فعل کے لئے اکسایا تھا لیکن ہم اسے غیر قوم کا فرد نہیں کہہ سکتے۔ہم سب باہر سے آئے ہیں۔اگر وہ پاکستانی نہیں تو مغل بھی پاکستانی نہیں مغل بھی باہر سے آئے