تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 374
۳۶۸ اس وقت میرا ارادہ اس واقعہ کے متعلق کچھ کہنے کا ہے جو گذشتہ ہفتہ راولپنڈی میں وزیر عظم پاکستان نواب زاده خان لیاقت علی خان کے ساتھ گزرار جہاں تک انسانی زندگی کا سوال ہے ہر انسان نے ہر حال مرنا ہے۔چاہے وہ قاتل کی چھری سے مرجائے۔بچاہے وہ ہیضہ سے مر جائے۔بچاہے وہ بخار کی شدت سے مرجائے۔اور چاہے وہ سہل اور دق سے مربھائے۔موت تو بہر حال آتی ہے۔رسونی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے لكل داء دواء إلا الموت ہر بیماری جب تک کہ وہ بیماری کی صورت میں ہے اس کا علاج ہے لیکن وہ چیز جو بظاہر بیماری ہے لیکن دراصل وہ موت کا پیغام ہے اس کا کوئی علاج نہیں پس انسان نے مرنا تو ہے لیکن بعض چیزیں تکلیف دہ پہلو اپنے ساتھ رکھتی ہیں۔اگر کسی کو اچانک موت آجاتی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ وہ حسرت ناک ہوتی ہے۔گو دراصل اچانک حادثہ کی وجہ سے جو موت آتی ہے وہ مرنے والے کے لئے آرام دہ موت ہوتی ہے مثلاً اگر وہ آٹھ دس دن ٹائیفائڈ میں مبتلا رہتا۔راتوں کو بھاگتا۔تکلیف کی وجہ سے کراہتا اور پھر اسے موت آجاتی تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موت اسے بہر حال آئی تھی لیکن یہ موت اُس کے لئے تکلیف دہ ہوتی لیکن اگر اس کا اچانک ہارٹ فیل ہو جاتا ہے یا اسے گولی لگتی ہے اور وہ فوراً مر جاتا ہے تو یہ موت بظاہر آرام دہ موت ہے لیکن اس لحاظ سے تکلیف دہ ہوتی ہے کہ مرنے والے کو وصیت کا موقع نہیں ملتا۔اور قرآن کریم میں آتا ہے کہ اگر کسی کے سر ذمہ داری ہو جیسے اُس نے ادا کرنا ہو تو اُس کے لئے وصیت کرنا ضروری ہے۔جب کسی کے پاس قومی اسرار ہوتے ہیں تو باپ بیٹے کو وصیت کرتا ہے۔آگے بیٹیا اپنے بیٹے کو وصیت کرتا ہے۔پھر وہ اپنے بیٹے کو وصیت کرتا ہے۔اسی طرح ایک سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے۔اور کوئی قوم کا میاب اسی وقت ہوتی ہے جب اُس کا تسلسل قائم ہوا اور تسلسل کو قائم رکھنے کے لئے نصیحت اور وصیت کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن اگر کسی کی اچانک موت ہو جائے تو یہ موقع اُس سے چھین لیا جاتا ہے۔اور جن باتوں کا مرنیوالے کو تجربہ ہوتا ہے۔جن خطرات کا اُسے علم ہوتا ہے اور بعض فوائد جو اس کے علم میں اس کی قوم محاصل کر رہی ہوتی ہے اگر اُسے چند دن بیمار رہنے کے بعد موت آئے تو وہ اپنے جانشینوں کو بعض نصائح کر دیتا ہے۔وہ انہیں بتا دیتا ہے کہ فلاں فلاں فائدہ تم اس طرح حاصل کر سکتے ہو۔اور ساتھ ہی وہ یہ بھی بتا دیتا ہے کہ تمہارے سامنے فلاں فلاں قسم کے خطرات ہیں ان خطرات سے بچنے کا یہ طریق ہے۔اس رنگ میں اس کی موت زیادہ تکلیف دہ نہیں ہوتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک موت کو تکلیف وہ اسی لئے فرمایا ہے کہ مرنے والے کو وصیت کا