تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 344
۳۳۸ ہمیشہ ہی زیادہ رہا ہے اور اس کی طالبات نے مخصوص مضامین میں اچھی پوزیشن لے کر طلائی تمغے ہی حاصل نہیں کئے بلکہ بورڈ اور یونیورسٹی کے امتحانات میں بھی اول آتی رہی ہیں۔دنیا ان کا عضو جامد صورت میں لازمی اور جامعہ نصرت کا خالص اور مثالی اسلامی ماحول اس کی علمی وتربیتی سرگرمیوں کا فقط مرکز یہ اور اس کی روح رواں ہے اور مغربی دنیا کے اس چیلنج کا واقعاتی اور مسکت جواب ہے کہ کپردہ عورت کی ترقی میں وک ہے۔علاوہ ازیں جامعہ نصرت کے پاک اور بابرکت اسلامی ماحول نے قرن اول کی علم پر مسلم خواتین کی یاد تازہ کر دی ہے جس کا اعتراف دوسروں کو بھی ہے۔چنانچہ ڈاکٹر علی محمد صاحب پر نسپل لاہور کالج نے اس کے معائنہ کے بعد اپنے تاثرات درج ذیل الفاظ میں لکھے :- ربوہ اپنی لڑکیوں کی تعلیم کے لحاظ سے تمام پنجاب میں سبقت لے گیا ہے۔عجب سماں ہے پڑھنے الیان اور پڑھانے والے ایک ہی مقصد کے تحت رواں دواں ہیں۔ان میں سے کسی کی بھی توجہ کسی اور طرف نہیں اس نے کوث جذبہ کو دیکھ کر بے اختیار کہنے پر مجبور ہوں کہ یہ اسلامی تعلیم کی فضاء ربوہ ہی میں پائی جاتی ہے۔سیدنا سید نا حضرت مصلح موعود کا اظہار خوشنودی سیدنا حضرت لوعود نے یکم وفا ۱۳۳ پیش جولائی ۱۹۵۵ء کو جامعہ نصرت کے خوش کن نتائج پر غایت درجہ خوش نودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :- امسال یونیورسٹی کے امتحانات کے نتائج صرف بائیس فیصدی نکلے لیکن ہمارے ربوہ کی لڑکیوں کے کالج درجامعہ نصرت) کا نتیجہ تریسٹھ فیصدی رہا اور ان پاس ہونے والی طالبات میں سے اکثر وہ ہیں جن کی فیس پریا و یکی خود ادا کرتا تھا وہ کالج کی نہیں تھی نہیں کر سکتی تھیں لیکن ہم نے اُن کے اخراجات کو ہی دوست کیا اور اسی طرح عورتوں کی تعلیم کا ایک بڑا مرکز تھا وہاں پر کل تعلیم کا تناسب باسٹھ فیصدی تھا۔لڑکوں کی تعلیم کا تناسب نوے فیصدی تھا اور عورتوں کی تعلیم کا نتنا سب سو فیصدی تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ کوئی قوم پر وہ میں ترقی نہیں کر سکتی لیکن ہماری طرف دیکھو کہ ہماری بچیوں کو جو عو رتیں پڑھاتی ہیں وہ بھی پردہ کی پابند ہیں۔خود میری اپنی بیوئی کالج کی پرنسپل ہے وہ عربی میں ایم۔اے ہے اور وہ ان دنوں محترمه فرخنده اختر صاحبہ لاہور میں ایم۔اس کی تیاری کر رہی تھیں اور حضور کی حرم حضرت سیدہ اتم متین صاحبہ در شهر پرنسپل کے فرائض بھی انجام دے رہی تھیں ہے