تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 343 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 343

۳۳۷ (1992 میں حضرت مصلح موعود رونق افروز ہوئے اور ایک اہم خطاب فرمایایه نه و ه۱۹۹/۱۳۹۴ میں بالترتیب حضرت سیدہ ام مستکین صاحبہ اور حضرت سیدہ نواب مہار کہ بیگم صاحبہ صدارت کے فرائض انجام دیئے۔۱۳۲۱ - ۱۳۲۲ پیش / ۱۹۶۲ - ۱۹۲۳ء میں پہلی بار جلسہ ہائے تقسیم اسناد کی سادہ اور موثر تقریب منائی گئی جس میں حضرت سید ہ نوابہ مبارکہ بیگم صاحبہ نے شرکت فرمائی۔ہ ہ میں رسالہ "النصرت جاری کیا گیا۔۳۴ ستارہ میں سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اور شام میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے علا قسیم اسناد کی صدارت فرمائی اور خطاب سے نواز آب اسی سال حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے نظارت تعلیم کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کے لئے " نصرت جہاں میڈل عطا کرنے کا اعلان فرما یا هر و انتشار و هدا اللہ کے جلسہ ہائے تقسیم اسناد میں بالترتیب بیگم صاحبہ صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب اور حضرت بیگم صاحبہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے صدارت کے فرائض انجام دیئے۔حضرت مصلح موعود کی دعاؤں کے نتیجہ میں جامعہ نعت ایک زندہ جماعت کی مالی درس گاہ حضرت مصلح موعود اور امام مہمام ایدہ اللہ تعالے جامعہ نصرت کی حیرت انگیز او فقید المثال ترقی کی دعاؤں کا زندہ اعجاز اور قرآنی آیت و گواریت اترابا کی عملی تعبیر و تفسیر ہے جس نے اپنے بائیس سالہ دور میں تعلیمی، تربیتی اور دینی ہر اعتبار سے حضر سیده ام متین صاحبہ اور محترمہ فرخنده اختر صاحب جیسی بزرگ ہستیوں کی سرپرستی اور نگرانی میں فقید المثال ترقی کی ہے۔وہ جامعہ جو گنتی کی صرف چند لیکچرر خواتین سے جاری ہوا اب اس کے سٹاف میں سند یافتہ فرض شناس اور شفیق و مونس پروفیسر او لیکچر خواتین شامل ہیں۔اور جہاں پہلے سال صرف سولہ طالبات کا لج میں داخل ہوئیں وہاں ۱۳۵۳ / ۱۹۷۳ء میں طالبات کی تعداد ساڑھے تین سو سے بھی بڑھ چکی ہے۔جامعہ نصرت کی کامیابی کا تناسب کیفیت و کمیت کی رو سے یونیورسٹی اور بورڈ کے تناسب سے له مصباح ماه نبوت ۱۳۳۴ش/ نومبر ۱۹۵۵ء و الازهار لذوات الخمار حصہ دوم ها ، ما : کے حضور کا پر معارف خطبہ مدارت مصبات باره احسان ۱۳۴۷ ش ر جوان ۱۹۶۸ء ص ا تا حد میں شائع شدہ ہے :