تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 342 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 342

راس ایمان افروز خطاب کے بعد حضور نے لمبی دعا فرمائی اور یہ مبارک تقریب اختتام پذیر ہوئی۔سید نا حضرت امیر المومنين الصلح الموعود نے حضرت سیدہ آیتم متین صاحبہ کو ابتدائی سٹاف جامعہ نصرت کی نگران اور محترمہ فرخنده اختر صاحبہ (اہلیہ حضرت سیدمحمود اللہ شاہ صاحب ) کو پرنسپل مقر فرمایا اور پہلے سال تعلیمی و تدریسی ذمہ داریاں مندرجہ ذیل اساتذہ کے سپرد کی گئیں :- حضرت سیده ایم متین مریم صدیقہ صاحبہ (عربی) مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری دینیات) محترمه فرخنده اختر صاحبه (انگریزی و اقتصادیات) حضرت پر و فیسر علی احمد صاحب ایم۔اسے (اردور فارسی) چوہدری علی محمد صاحب بی۔اسے بی ٹی ( تاریخ ) محترمه استافی سردار صاحبه (عربی) جامعہ نصرت جو سال اول کی صرف سولہ طالبات پر شتمل تھا حضرت سیدنا المصلح الموعود کی عمارت ذاتی کوٹھی میں جاری ہوا ۱۳ / ۱۹۹۲ء میں اس کو دفتر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ میں کھولا گیا ۱۳۳۲ / ۱۹۵۳ء میں جامعہ نصرت کی موجودہ مستقل عمارت کے پہلے پچار کمر سے تیار ہوئے تو یہ اس میں منتقل کر دیا گیا۔۱۲۰ / ۱۹۶ میں اس کی وسیع عمارت میں بارہ دری کا اضافہ ہوا ۸ - امان ۳۴۹ ما په نشه کو سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے دست مبارک سے اس کے سائنس بلاک کا سنگ بنیا در کھا اور اسی سال ایف ایس سی میڈیکل اور نان میڈیکل کلاستر کا اجراء ہوار منٹ ہیں 19 مہر میں اس کی طالبات پہلی بار ایف ایس سی کے امتحان میں شامل ہوئیں۔جامعہ نصرت کے ساتھ دار الاقامہ (ہوسٹل کا قیام عمل میں آیا اور محترمہ استانی دوسرے کوائف | سردار صاحبہ اس کی پہلی ناظمہ سپر نٹنڈنٹ) تھیں۔۱۹۵۲ تبلیغ ها ۳ / فروری ۹۵ میں جامعہ نصرت کا پہلا ٹورنامنٹ ہوا۔اسی سال سے جان تقسیم انعامات کا آغاز ہوا اور پہلی بار حضرت امیم داؤد نے صدارت فرمائی اس رسالہ کی تقریب انعامات