تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 338
۳۳۲ پھر لوگوں کے لئے بہت کچھ مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔اب تو وہ پانچ سات روپیہ میں نوکر رکھ سکتے ہیں لیکن جس دن نوکر کی پچاس روپیہ تنخواہ ہوگئی اور سو روپیہ نہیں ملا تو تم نوکر کہاں رکھو گی۔آجکل یورپ میں نوکر کی تنخواہ تین پونڈ ہفتہ وار ہے جس کے معنے آجکل کے پاکستانی روپیہ کی قیمت کے لحاظ سے ایک سو نہیں روپیہ ماہوار کے ہیں اور کھانا بھی الگ ہی دینا پڑتا ہے۔اس زمانہ میں اوپر کے طبقوں کی تنخواہیں گر رہی ہیں اور نیچے کے طبقہ کی تنخواہیں بڑھتی جارہی ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص سات آٹھ سو روپیہ ماہوار لیتا ہے وہ بھی ملازم نہیں رکھ سکتا صرف ہزاروں روپیہ ماہوار کمانے والا ملازم رکھ سکتا ہے۔ایسی صورت میں ہی ہو سکتا ہے کہ ایک وقت کا کھانا دوتین وقتوں میں کھا لیا یا ایک وقت ہوٹل میں جا کر کھا لیا اور دوسرے وقت کے کھانے میں کولڈ میٹ استعمال کر لیا۔اس طرح بہت سا وقت اور کاموں کے لئے بیچ سکتا ہے۔پھر بہار ہے ہاں یہ بھی ایک نقص ہے کہ بچوں کو کام کرنے کی عادت نہیں ڈالی جاتی۔بچے دسترخوان پر بیٹھے ہیں اور شور مچاتے ہیں کہ اتھی نوکر پانی نہیں لاتا کہ ہم ہاتھ دھوئیں، امتی نوکر نے برتن صاف نہیں گئے۔امریکہ میں ہر بچہ اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ اپنے کھانے کے برتن کو خود دھوکہ دیکھے اور اگر وہ نہ دھوئے تو اُسے سزا ملتی ہے کیونکہ ماں اکیلی تمام کام نہیں کرسکتی اگر وہ کرے تو اُس کے پاس کوئی وقت ہی نہ بچے۔وہ اسی طرح کرتی ہے کہ کچھ کام خود کر تی ہے اور کچھ کاموں میں بچوں سے مدد لیتی ہے۔غرض یورپ میں اول تو روٹی بازار سے منگوائی جاتی ہے۔پھر انہوںنے کو ڈھیٹ اویر اسی قسم کی اور چیزیں ایسی بنائی ہیں جن کا ذخیرہ کیا جاسکتا ہے اور بجائے اس کے کہ ہروقت گرم کھانا کھایا جائے وہ اس سے روٹی کھا لیتے ہیں۔پھر ایک وقت کا پکا ہوا کھانا دو وقتوں میں کھا لیتے ہیں سا اور پھر کام میں بچوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے اور اس طرح بہت سا وقت بچا لیا جاتا ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے لیکں نے ایک لطیفہ پڑھا جو امریکہ کے ایک مشہور رسالہ میں شائع ہوا تھا اور جس سے اُن لوگوں کے کیریکٹر پر خاص طور پر روشنی پڑتی ہے۔ایک باپ کہتا ہے کہ میری سمجھ میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ میرے بچوں کو کبھی کبھی یہ تو بھول جاتا ہے کہ آج ہم نے سکول جاتا ہے۔کبھی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ہم نے اپنے برتن صاف کرنے ہیں کبھی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ہم نے اپنے کپڑے بدلتے ہیں کبھی یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ہم نے اتنے بجے سوتا ہے لیکن اگر کبھی ہنسی میں میں نے اپنے بچوں