تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 337 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 337

۳۳۱ لوگ ہی تو کر رکھ سکیں گے کیونکہ نوکروں کی تنخواہیں بڑھے رہی ہیں اور ان تنخواہوں کے ادا کرنے کی متوسط طبقہ کے لوگوں میں بھی استطاعت نہیں ہو سکتی۔جب یکی یورپ میں گیا ہوں تو اُس وقت تک ابھی نوکروں کی تنخواہیں اتنی زیادہ نہیں ہوتی تھیں تب ہم نے جو عورت رکھی ہوئی تھی اسے ہم ۲ شکنگ ہفتہ وار یا ساٹھ روپیہ ماہوار دیا کرتے تھے اور ساتھ ہی کھانا بھی دیتے تھے۔پھر ان کی یہ شرط ہوا کرتی تھی کہ ہفتہ میں ایک دن کی پوری اور ایک دن کی آدھی چھٹی ہوگی۔ڈیڑھ دن تو اس طرح نکل گیا جس میں گھروالوں کو خود کام کرنا پڑتا تھا۔آقا بتیری شور مچاتی رہے کہ کام بہت ہے وہ کھیگی مکن نہیں آسکتی کیونکہ میری چھٹی کا دن ہے۔پھر جتنا وقت مقرر ہو اُس سے زیادہ وہ کام نہیں کرے گی کتنا بھی کام پڑا ہو وہ فوراً چھو کر چلی جائے گی اور کہے گی کہ وقت ہو چکا ہے۔در اصل اس میں ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کے اختیار میں ہی نہیں ہوتا کہ زیادہ کام کریں کیونکہ وہاں پر طبقہ کے لوگوں کی الگ الگ انجمنیں بنی ہوئی ہیں۔کوئی گھر کے نوکروں کی انجمن ہے ، کوئی قلیوں کی انجمن ہے، کوئی انجمن میں کو ٹلہ ڈالنے والوں کی انجمن ہے، کوئی استادوں کی انجمن ہے ، ان انجمنوں کی سفارش کے بغیر کسی کو نوکری نہیں ملتی۔اگر وہ زائد کام کریں تو انجمن کی نمبری سے اُن کا نام کٹ جاتا ہے اور پھر انہیں کہیں ملازمت نہیں ملتی ہمیں وہاں مضمون لکھنے کے لئے ایک ٹائپسٹ کی ضرورت تھی دفتر نے ایک عورت اس غرض کے لئے رکھی جو چیکو سلو کیا کی رہنے والی تھی۔اسے ہمارے۔۔۔مضامین پڑھنے کے بعد سلسلہ سے لچسپی ہو گئی مگر مشکل یہ تھی کہ اُس کا وقت ختم ہو جا تا اور ہمارا کام ابھی پڑا ہوا ہوتا۔بعض دفعہ ہمیں دوسرے ہی دن مضمون کی ضرورت ہوتی اور وہ کہتی کہ میں اب جا رہی ہوں کیونکہ وقت ہو گیا ہے مگر چونکہ اسے ہمارے سلسلہ سے لو سپی ہوگئی تھی اس لئے وہ کہتی کہ میں زائد وقت کی ملازمت تو نہیں کر سکتی لیکن میں یہ کر سکتی ہوں کہ مضمون ساتھ لے جاؤں اور گھر پر اسے ٹائپ کروں انجمن والے مجھے گھر کے کام سے نہیں روک سکتے اس وقت میرا اختیار ہے کہیں جو چاہوں کروں آپ مجھے اُس وقت کی تنخواہ نہ دیں میں آپ کا کام مفت میں کر دوں گی اگر آپ مجھے کچھ دینا چاہیں تو بعد میں انعام کے طور پر دے دیں۔اس طرح وہ دشمن کا کام کیا کرتی تھی کیونکہ ڈرتی تھی کہ اگر انہیں پتہ لگا کہ میں چھ گھنٹہ سے زیادہ کہیں کام کر تی ہوں تو وہ مجھے نکال دیں گے اور پھر مجھے کہیں بھی نوکری نہیں ملے گی۔یہ چیزیں ابھی ہمارے ملک پلی نہیں آئیکن لیکن جب آئیں تو