تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 336
٣٣٠ کا کام عورت کے ذمہ ہے اس میں اب تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں عورت صرف کھانے پینے کے کام کے لئے ہی رہ گئی ہے اس کے پاس کوئی وقت ہی نہیں بچتا جس میں وہ دینی یا مذہبی یا قومی کام کر سکے۔یورپ کے مدبرین نے مل کر اس کا کچھ عمل سوچا ہے اور اس وجہ سے انکی عورتوں کا بہت سا وقت بچے جاتا ہے۔مثلاً یورپ نے ایک قسم کی روٹی ایجاد کر لی ہے جسے ہمارے ہاں ڈبل روٹی کہتے ہیں۔یہ روٹی عورتیں گھر میں نہیں پکا تیں بلکہ بازا ر سے آتی ہے اور مرد، عورتیں اور سب اسے استعمال کرتے ہیں۔مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ بادشاہ کے ہاں کیا دستور ہے آیا اُس کی روٹی بازار سے آتی ہے یا نہیں لیکن یورپ میں ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار نو سو ننانوے یقینا بازاری روٹی ہی کھاتے ہیں اور اس طرح وہ اپنا بہت سا وقت بچالیتے ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے اس قسم کے کھانا پکانے کے برتن ( COOKER ) نکالے ہوئے ہیں جن سے بہت کم وقت میں سبزی اور گوشت وغیرہ تیار ہو جاتا ہے۔پھر انہوں نے اپنی زندگیاں اس طرح ڈھال لی ہیں کہ عام طور پر وہ ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہیں۔یورپ میں بالعموم چار کھانے ہوتے ہیں صبح کا ناشتہ ، دوپہر کا کھانا، شام کا ناشتہ اور رات کا کھانا۔عام طور پر درمیانی طبقہ کے لوگ صبح کی چائے گھر پر تیار کر لیتے ہیں باقی دوپہر کے کھانے اور شام کی چائے وہ ہوٹل میں کھا لیتے ہیں اور شام کا کھانا گھر پر پکاتے ہیں پھر رو ملک ہونے کی وجہ سے ایک وقت کا کھانا کئی کئی وقت چلا جاتا ہے۔اور پھر کھا نے انہوں نے اس قسم کے ایجاد کرلئے ہیں جن کا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے مثلاً COLD MEAT ہے۔روٹی بازار سے منگوائی اور کولڈ میٹ کے ٹکڑے کاٹ کر اس سے روٹی کھائی لیکن ہمارے ہاں ہر وقت چولہا جلتا ہے۔جب تم کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتی ہو تو تمہیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ تم اپنی زندگی کیس طرح گزارو گی۔اگر چولہے کا کام تمہارے ساتھ رہا تو پھر پڑھائی بالکل بیکار چلی جائے گی۔تمہیں خود کر کے اپنے ملک میں ایسے تغیرات پیدا کرنے پڑیں گے کہ چوہے چھونکنے کا شغل بہت کم ہو جائے اگر یہ شغل اسی طرح جاری رہا تو پڑھائی سب خواب و خیال ہو کر رہ جائے گی۔یہی چولہا پھونکنے کا شغل اگر کم سے کم وقت میں محدود کر دیا جائے مثلاً اس کے لئے ایک گھٹنہ صبح اور ایک گھنٹہ شام رکھ لیا جائے تب بھی اور کاموں کے لئے تمہارے پاس بہت سا وقت بچ سکتا ہے۔یہ مت خیال کرو کہ تم نو کر رکھ لوگی، نوکر رکھنے کا زمانہ اب جا رہا ہے اب ہر شخص نوکر نہیں رکھ سکے گا بلکہ بہت بڑے بڑے