تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 335 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 335

۳۲۹ اور جس کے پورا کرنے کا تم نے اقرار کیا ہے۔پس ان ہدایات کے ساتھ میں احمدیہ زنانہ کالج کے افتتاح کا اعلان کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جو اس کالج میں پڑھانے والی ہوں گی وہ بھی اس بات کو تو نظر رکھ کر پڑھائیں گی کہ طالبات کے اندر ایسی آگ پیدا کی جائے جو ان کو پارہ کی طرح ہر وقت بیقرار اور مضطرب رکھے۔جس طرح پارہ ایک جگہ پر نہیں ملتا بلکہ وہ ہر آن اپنے اندر ایک اضطرابی کیفیت رکھتا ہے اسی طرح تمہارے اندروہ سیماب کی طرح تڑپنے والا دل ہونا چاہیئے جو اس وقت تک تمہیں چکیں نہ لینے دے جب تک تم احمدیت اور اسلام کو اور احمدیت اور اسلام کی حقیقی روح کو دنیا میں قائم نہ کر دو۔اسی طرح پر وفیسروں کے اندر بھی یہ جذبہ ہونا چاہیئے کہ وہ هیچی طور پر تعلیم دیں۔اطلاقی فاضلہ سکھائیں اور سچائی کی اہمیت تم پر روشن کریں۔تمہیں برا تو لگے گا مگر واقعہ یہی ہے کہ عورت سے بہت کم بولتی ہے۔اس کے نزدیک اپنے نفاوند کو خوش کرنے کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور سچائی کی کم۔جب اسے پتہ لگتا ہے کہ فلاں بات کے معلوم ہونے پر میرا خاوند ناراض ہو گا تو بھی اس معاملہ میں جھوٹ ہی بولتی ہے سچائی سے کام نہیں لیتی کیونکہ وہ ڈرتی ہے کہ اگر میں نے پیچ بولا تو میرا خاوند ناراض ہو گا۔وہ ایک طرف تو یہ دعوی کرتی ہے کہ میں محکوم نہیں مجھے مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں اور دوسری طرف وہ مرد سے ڈرتی ہے۔اگر اس کا مرد سے ڈرنا ٹھیک ہے تو پھر وہ محکوم ہے، اُسے دنیا کے کسی فلسفہ اور کسی قانون نے آزاد نہیں کیا۔اور اگر وہ مرد کے برابر قومی رکھتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ جھوٹ بولے اور اسی طرح صداقت پر قائم نہ رہے جیس طرح آزاد مرد صداقت پر قائم رہتے ہیں یہ ایک چھوٹا مسئلہ ہے لیکن تمہاری اصلاح کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتا ہے۔تمہیں اپنے دل میں یہ فیصلہ کرنا چاہیئے کہ تم آزاد ہویا نہیں۔اگر تم آزاد نہیں ہو تو کہو کہ خدا نے ہم کو غلام بنا دیا ہے۔اور چھوڑو اس بات کو کہ تمہیں مردوں کے برابر حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔اور اگر تم آزاد ہو تو خاوند کے ڈر کے مارے جھوٹ بولنا اور راستی کو چھپانا یہ لغو بات ہے۔اسی طرح یکیں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ملک کی عورت میں کام کرنے کی عادت بہت کم ہے بلجنہ بنی ہوئی ہے اور کئی دفعہ میں اسے اس طرف تو جہ بھی دلا چکا ہوں مگر مہنوز روز اول والا معاملہ ہے۔تمہیں اپنے کالج کے زمانہ میں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیئے کہ عورت کی زندگی زیادہ سے زیادہ کس طرح مفید بنائی جا سکتی ہے۔یہ پرانا دستور جو ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور اب بھی ہے کہ کھانا پکانے