تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 323 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 323

۳۱ طرف دیکھتا ہے کہ ایک چھوٹی سی ندی جس کی حیثیت ہی نہیں ہوتی اس میں وہ ایک کا رک کی طرح ادھر ادھر پھر رہا ہے کبھی وہ کسی چٹان سے ٹکراتا ہے اور کبھی کسی سے کی بھی دائیں طرف چلا جاتا ہے اور کبھی بائیں طرف کبھی وہ خس و خاشاک کے ڈھیروں میں چھپ جاتا ہے اور کبھی گندی بھاگ میں، اور ہرشخص اس کی لرزتی اور کپکپاتی ہوئی سالت کو دیکھ کہ اس سے اپنا منہ پھیر لیتا ہے اور کہتا ہے یہ کیا ہی ذلیل چیز ہے تاریخ سے بھاگنے والا وہی بزدل ہوتا ہے جس میں یہ جرات نہیں ہوتی کہ وہ حقائق کے آئینہ میں اپنے باپ دادا کی شکل کے سامنے اپنی شکل رکھ سکے۔بہادر اور ہمت والا انسان خود جاتا ہے اور اس آئینہ کو اٹھاتا ہے اور وہ اس آئینہ میں اپنی شکل کو دیکھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے اور کہتا ہے ہاں میرے آباء و اجداد اگر چٹان تھے تو میں بھی چٹان بن کر رہوں گا۔وہ اگر طوفان تھے تو میں ان سے بھی اُونچا طوفان بنوں گا۔وہ اگر سمندر کی لہروں کی طرح اُٹھتے تھے تو ئیں ان سے بھی اُونچا اٹھوں گا۔تم جانتی ہو کہ وہ لڑکی جس کے نمبر کلاس میں زیادہ ہوتے ہیں وہ نمبروں کو چھپاتی نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتی ہے۔نمبروں کا بتاتا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے انسان کا اپنا منہ دیکھانا۔وہ اپنا اندرونہ دیکھاتی ہے۔اور جس کے نمبر کم ہوتے ہیں وہ ان کو چھپایا کرتی ہے پس تاریخ کے پڑھنے سے گریز در حقیقت بزدلی کی علامت ہے۔در حقیقت یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص کو اپنے مکر وہ چہرے کا پتہ ہے اور اس شخص کو اپنے آباء و اجداد کے حسین چہرے کا بھی پتہ ہے۔مگر ان دونوں باتوں کے معلوم ہونے کے بعد وہ یہ جرات نہیں رکھتا کہ ایک آئینہ میں دونوں کی اکٹھی شکل دیکھ سکے۔یہاں تک توئیں نے صرف عام پیرایہ میں اس مضمون کی اہمیت بیان کی ہے اگر مذہبی پہلو سے لوتو تاریخ ہی ایک مسلمان کو بتا سکتی ہے کہ کسی طرح ایک ریگستان سے ایک انسان اٹھا اور اس نے اپنی مقناطیسی قوت سے اپنے اردگرد کے فولادی ذروں کو جمع کرنا شروع کیا پھر تھوڑے ہی عرصہ میں وہ ایک علاقہ میں پھیل گیا، پھرملک میں پھیل گیا، پھر زمین کے تمام گوشوں میں چپے چپے پر اس کی جماعت پھیل گئی۔قرآن کریم نے مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ ان کا نام بَرَرَہ “ اور سفرہ“ رکھا ہے یعنی ان کے قدم گھر میں ٹکتے ہی نہیں تھے۔دنیا کے گوشوں گوشوں میں پھیلتے چلے جاتے تھے اور جہاں جاتے تھے اپنی خوش استلاقی اور اعلی درجہ کے چپلن کی خوشبو پھیلاتے بجاتے تھے لیکن کیا وہ پھیلنے والا مسلمان اور کجا آج کا سمٹنے والا مسلمان کجا وہ زمانہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں فرمایا کہ مردم شماری کرو