تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 322 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 322

٣١٩ سے بھاگنے والی قوم وہی ہوتی ہے جو ڈرپوک ہو جاتی ہے اور ڈرتی ہے کہ اگر میرے ماں باپ کی تاریخ میرے سامنے آئی اور اس میں میرا بھیانک چہرہ مجھے نظر آیا اور مجھے پتہ لگا کہ میں کون ہوں تو میرا دل برداشت نہیں کرے گا چونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس آئینہ میں میری شکل مجھے نظر آئے گی اس لئے وہ اپنی شکل کے خیال اور تصور سے کہ وہ کتنی بدصورت ہوگی اسے دیکھنے سے اجتناب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ بات فطرت انسانی میں داخل ہے کہ وہ اپنے آباء و اجداد اور اپنی اولاد اور اپنے رشتہ داروں کو اپنی شکل کا دیکھنا چاہتا ہے۔کئی ماں باپ جن کے ہاں کسی حادثہ یا بیماری کی وجہ سے بدصورت بچے پیدا ہو جاتے ہیں ان سے ان کی مائیں بھی نفرت کرنے لگتی ہیں اور وہ بدصورت بچے اپنے دوسرے بھائیوں سے نفرت کرتے ہیں اس خیال سے کہ یہ ہم سے اچھے ہیں۔اس طرح جب تاریخ میں انسان اپنے آباء کو دیکھتا ہے کہ انہوں نے یہ یہ کارنامے سر انجام دیئے اور ان کی یہ شان تھی اور اس کے مقابلہ میں وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہم کیا ہیں۔اور پھر وہ اس میلین اور طریق کو دیکھتا ہے جو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اختیار کیا ہوا ہے تو دیانتداری کے ساتھ وہ یہ سمجھنے پرمجبور ہو جاتا ہے کہ میری غفلت اور میری سہل انگاری اور میری اپنے فرائض سے کوتا ہی اور میری عیش و آرام کی زندگی مجھ کو مجرم بنانے کے لئے کافی ہے۔اسے تاریخ کے اس آئینہ میں اپنا گھناؤنا چہرہ نظر آجاتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ جب میں پڑا نے حالات پڑھوں گا اور دیکھ لوں گا کہ وہ لوگ جو میرے آباد تھے ان کاموں سے نفرت کیا کرتے تھے تو مجھے بھی اپنے اندر تغیر پیدا کرنا پڑے گا پس وہ اپنے بد صورت چہرہ کو ان کے خوبصورت چہرہ سے ملانے سے گھبراتا ہے اور اس لئے تاریخ سے دور بھاگتا ہے۔جب آج کل کا مسلمان تاریخ کے آئینہ میں یہ دیکھتا ہے کہ اس کے باپ اور ماں ہمالیہ سے بھی اونچے قدوں والے تھے۔آسمان بھی ان کے دبدبہ سے کا پتا تھا اور اس کے مقابلہ میں وہ اپنی تصویر کا خیال کرتا ہے کہ بالکل ایک بالشتیہ نظر آتا ہے اور اس کی مثال ایک کا رک جتنی بھی نہیں جو دریا میں بہتا چلا جاتا ہے۔سیمنارہ کی تریں اُٹھتی ہیں اور اس کے آباء و اجداد کی مضبوط چٹان سے ٹکراتی ہیں اور وہ بلند و بالا ہونے والی نہریں جن کو دیکھ کر لبسا اوقات انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ دنیا کو کہا کر لے جائیں گی وہ اس کے آباء واجداد کی چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ان کا پانی بھاگ بن کر رہ جاتا ہے، اور اس چڑان کے قدموں میں وہ جھاگ پھیل رہی ہوتی ہے۔ہوا میں پہلے پھٹ پھٹ کر غائب ہوتے پہلے جاتے ہیں اور اس کو نظر آتا ہے کہ اس کے آباء و اجداد کی کیا شان تھی پھر وہ اپنی