تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 311
۳۰۵ اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ سمندری میں جن لوگوں نے احمدیہ سجد کو جلایا ہے ان لوگوں نے نہایت گندہ فعل کیا ہے اور ان کی یہ ترکت پاکستان کے مسلمانوں کو سخت بد نام کرنے کا موجب ہے۔صرف ہم ہی نہیں ہر شریف انسان کے دل میں ایسی حرکت کرنے والوں کے متعلق نفرت اور غصہ کے جذبات پائے جاتے ہیں۔عبادت گاہوں کو جلانا خواہ وہ کسی مذہب اور فرقہ کی ہوں نہایت ہی شرمناک حرکت ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔مہربانی فرما کہ ہماری یہ رائے اخبار میں شائع کر دیں ہم تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مکر وہ فعل پر نفرت کا اظہار کریں تا کہ ملک کی فضا خواب نہ ہو۔(دستخط - محمد حسین تنظیم خود ۲ محمد شفیع تعلیم خود ۳- له دوی تعلیم خود ۲۴ محمد دین در محمدعبداله سمندری خاص ) (۲) چک ۳۸۰ گ ب متصل سمندری کے مسلمان شرفاء کے تاثرات :- سمندری میں احمدیوں کی مسجد کو بھلا کہ شرارت پسند عنصر نے بہت ہی گندہ نمونہ پیش کیا ہے عبادت گاہ کو بھلانا خواہ وہ کسی فرقہ کی ہو نہ صرف اسلام کی رو سے گناہ ہے بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی بہت قابل شرم فعل ہے۔پاکستان خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک امن پسند جمہوری ملک ہے۔اس ملک میں کسی فرقہ کی عبادت گاہ کو جلانا ایسا فعل ہے جس کی ہندو سکھ، یہودی اور عیسائی سے بھی تو قمع نہیں ہے۔افسوس ہے کہ ہمارے ملک کے مسلمان اسلام کی خدمت سے تو محروم تھے ہی اب ان میں سے چند شرارت پسند لوگوں نے اپنے اعمال سے اسلام کو بدنام کرنے والی حرکتیں شروع کر دی ہیں جن کو تمام مشریف الطبع پاکستانی مسلمان نہایت نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ہمارا جماعت احمدیہ سے مذہبی اختلافت ہے مگر ہم اس فعل کو بہت برا اور ظالمانہ فعل سمجھتے ہیں۔دستخط 1 محمد شفیع ۲ جلال الدین ۳- محمد حسین ۴ - HAKAMALI "- MOHAMMAD RAFI (۳) چک ۳۸۴ گ به تعمل سمندری کے مسلمان شرفاء کے تاثرات :- جن لوگوں نے سمندری کی احمدیہ مسجد کو جلایا ہے انہوں نے اسلام اور قرآن مجید کی تعلیم کے بالکل انٹ کر کے پاکستان کے مسلمانوں کو بدنام کرنے اور پاکستان کی پرامن فضاء کو برباد کرنے کی کوشش کی ہے۔ہم باوجود جماعت احمدیہ سے مذہبی اختلاف رکھنے کے اس فعل پر سخت نفرت کا اظہار کرتے ہیں