تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 305
٢٩٩ تغیر پیدا کر لیں تب بے شک یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے اپنے فرض کو اداکر دیا ؟ لے پاکستان میں دستور سازی کی جو مہم تین سال سے جاری تھی بنیادی حقوق کی کمیٹی کی رپورٹ پر اس نے راتو رات کوایک مینی اور اختیار کرلی نے علمائے سلسلہ کا تبصرہ یعنی ملک کی دستور ساز اسمبلی نے بنیا دی حقوق کی کمیٹی کی عبوری رپورٹ منظور کر لی۔اس رپورٹ کے سارے پہلوؤں پر غور وفکر کے لئے حضرت امیر المومنین المصلح الموعونہ کے ارشاد مبارک پر ایک کمیٹی تشکیل کی گئی جس میں مندرجہ ذیل ممتاز علما کے سلسلہ شامل تھے :۔ا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر دعوت و تبلیغ سابق پروفیسر تاریخ الادیان تخلیه صلاح الدین ایوبی بیت المقدس - ۲ مولانا جلال الدین صاحب شمسی سی ناظر تالیف و تصنیف سابق مبلغ بلاد یو بیه و امام مسجد لندن۔۳۔ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسله احمدیه و سند یافته از صد ر هندی مدرسه فتح پوری دہلی سابق مدرس دارالعلوم دیوبند - ۴- مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری پرنسپل جامعہ احمد یہ سابق مبلغ بلاد عربیه - ۵ - حضرت مولوی فضل الدین صاحب مشیر قانونی سلسلہ عالیہ احمدید - مولوی خورشید احمد صاحب شاد پر و فیسر جامعتہ المبشرین سند یافتہ شیخ الحدیث ڈابھیل۔مولوی محمد احمد صاحب ثاقب پروفیسر جامعتہ المبشرین و سند یافتہ صدر مدرس مدرسه فتح پوری دہلی سابق تدریس وارالعلوم دیوبند - - ابوالمنیر مولوی نور الحق صاحب پرو فیسر جامعه المبشرین۔9۔چوہدری غلام مرتضی صاحب بارایٹ لاء مشیر قانونی سلسلہ عالیہ احمدیہ ۱۰۰ مولوی تاج الدین صاحب قاضی سلسلہ عالیہ احمد ہے ار مولوی محمد صدیق صاحب پروفیسر جامعتہ المبشرین سند یافتہ شیخ الحدیث ڈابھیل۔ان علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں عبوری رپورٹ کی دفعات کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس کے اہم پہلوؤں پر ایک سیر حاصل تبصرہ لکھا جو الفضل (۲۴ - امان هن ۱۳۳ ) میں شائع ہوا۔اس تبصرہ کے بعض اہم نکات حسب ذیل تھے :۔اول : جہاں تک حدود شرعیہ کا سوال ہے جیسے قصاص، زنا ، سرقہ وغیرہ ان میں قرآن مجید اور سنت نے کسی کا استثناء نہیں کیا لہذا حدود شرعیہ میں نہ تو صدر مملکت کا استثناء مناسب ہے اور له الفضل ۲۸ - ا مان هن صده