تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 304 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 304

۲۹۸ حضرت مصلح موعود نے اور امان از تاریخ کونا مهرآباد سندھیوں میں حلقہ تبلیغ وسیع کربیٹی تحریک سندھ کے مقام پر ایک اہم خطبہ ارشاد فرالیا جس میں اسعدی جماعتوں کو تحریک فرمائی کہ وہ صوبہ کے اصل باشندوں یعنی سندھیوں میں حلقہ تبلیغ کو وسیع کریں۔چنانچہ فرمایا :- " جب تک تم سندھیوں میں احمدیت کی تبلیغ نہیں کرتے یا جب تک تم ان کے ساتھ اس طرح مل مبل نہیں جاتے کہ تمہارا تمدن بھی سند بھی ہو جائے ، تمہارے کپڑے بھی سندھیوں جیسے ہو جائیں ، تمہاری زبانیں بھی سندھی ہو جائیں اُس وقت تک تمہاری حیثیت محض ایک غیر ملکی کی رہے گی۔یہ کتنی واضح چیز ہے جو نظر آرہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کتنے آدمی ہیں جنہوں نے اس حقیقت پر کبھی غور کیا ہے۔اس وقت بیرونی جماعتوں میں سے سو ڈیڑھ سو آدمی یہاں آیا ہوا ہے اور ہم خوش ہیں کہ جماعت میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں کہ ایک جنگل میں اتنے آدمی اکٹھے ہو گئے ہیں لیکن اگر ہم غور سے کام لیں تو یہ زندگی کے کیا آثار ہیں کہ جس ملک میں ہم بیٹھے ہیں اس ملک کے باشندے ہمارے اندر موجود نہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ہم انگلستان میں ایک بہت بڑا جلسہ کریں اور اس میں پاکستان کے پاکستانی، افریقہ کے حبشی، انڈونیشیا کے انڈونیشین سیلون کے سیلونی، برما کے برمی، افغانستان کے افغان اور عرب ممالک کے حرب سب موجود ہوں لیکن انگلستان کا کوئی آدمی نہ ہو اور ہم بڑے خوش ہوں کہ ہمارا جلسہ نہایت کامیاب ہوا ہے۔سوال یہ ہے کہ وہ جلسہ کیا کامیاب رہا جس میں اور ممالک کے لوگ تو موجود تھے اور انگلستان کا کوئی آدمی موجود نہ تھا۔اس طرح تو ہم نے اپنے روپیہ کو مائع ہی کیا کیونکہ جس ملک کے لوگوں پر ہم اپنا اثر پیدا کرنا چاہتے تھے اُس ملک کا کوئی فرد اس میں موجود نہیں تھا۔اسی طرح ہم جب سندھ میں آئے ہیں تو سندھ کے لوگوں کی خاطر آئے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم سندھیوں میں اپنی تبلیغ کے حلقہ کو وسیع کریں اور ان کو اپنے اندر زیادہ سے زیادہ تعداد میں شامل کریں۔غرض اگر غور سے کام لیا جائے اور سوچنے کی عادت ڈالی جائے تو یہ چیز ہمارے سامنے آجاتی ہے اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت اس صوبہ میں رہتے ہوئے ہم نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا ہی نہیں حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے رہنے والوں کا حق پنجابیوں سے زیادہ ہے اور ہمارے لئے خوشی کا دن دراصل وہ ہو گا جب ہمارے جلسہ میں اگر پانچ سو آدمی ہوں تو ان میں سے چار سو سند بھی ہوں اور ایک سو پنچابی ہو۔اگر ہم ایسا