تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 303
۲۹۷ ولی اللہ شاہ صاحب نے اس عرب نمائند سے کو بھی جواب دیا اور اپنے بیان میں بھی بتایا کہ موتر عالم اسلامی کے قیام اور بقاء سے کم از کم جو فائدہ ہمیں پہنچ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ باہمی تعارف اور ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت حاصل ہونے کے علاوہ عالم اسلامی کے استاد کی ضرورت کا شتوں اور احساس پیدا ہو جانا خود ایک بڑی نعمت ہے۔تقریباً ہر ایک نمائندے نے بداند آواز اور موثر انداز میں بارباز شنایا کہ مسلمان مسلمان نہیں رہے تم مسلمان بنو یہ آواز بھی احساس بیداری پیدا کرنے والی ہے۔اور جب قوم میں ایک وفعہ احساس پیدا ہو جائے تو اُمید کی جاتی ہے کہ دوسرا قدم بھی اٹھایا جائے۔پس احساس بیداری سے فائدہ اٹھانا چاہئیے نہ کہ مایوسی سے اس کو ضائع کر دینا چا ہیے پا حضرت شاہ صاحب نے اس بیان میں مزید فرمایا کہ :- یک نے محسوس کیا ہے کہ جمعیت علماء میں بھی قابل قدر این نخستین موجود ہیں جو بھی ہیں کہ اسلامی فرقوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ان کی نوعیت زیادہ تر تاویلی اور اصطلاحی ہے ہمیں ابن اختلافات سے بلند اور با لارہ کے عالم اسلامی کے لئے تنظیم و مدت کا سٹی کھڑا کرنا چاہیے، مجھ سے ایک عالم نے کہا کہ نبوت اور ختم نبوت کی تعریف میں جو اختلاف آپ کے اور ہمارے درمیان ہے وہ ور جیل سے صلاحی تعریف کا اختلاف ہے ورنہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ اختلات الیہ ما نہیں کہ ابن ہم آپسی نہیں دست و گریبان ہوں۔آپ بھی مانتے ہیں کہ اسلام کی شریعت کامل ہے اور اس کے بعد کوئی شریعیت نہیں اور نبوت کی تعریف میں صرف یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اسے ہم کلام ہونا اور نہی کے لئے ضروری نہیں کہ وہ صاحب شریعت بھی ہو اور ہمارے علماء نبی کے لئے شریعت کا لانا ضروری قرار دیتے ہیں۔تو یہ صرف اختلاف تعریفہ کا ہے۔یہ ایسا اختلافت نہیں کہ آپس میں دست و گر بیان ہوا جائے علماء کے طبقہ میں اس قسم کی آزاد خیالی کا پیدا ہونا خوش کن ہے۔جوں جوں ہمارا نقطہ نظر وسعت اختیار کرتا جائے گا اور رواداری کی دُور ہم میں کار فرما ہوگی ہم ایک دوسرے کے قریب ہو تے چلے جائینگے اور جو ہمارے درمیان تیلیج ہے کم سے کم ہو تی چلی جائے گی۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ موتمر عالم اسلامی کے ذریعہ سے مسلمانوں کے درمیان وحدت کی صورت پیدا ہونے کے امکانات موجود ہیں نہ ملے له الفضل ، در امان مارچ