تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 289
۲۸۴ بهديها حتى اليوم له (ترجمه) جلسه سیرت النبی پرسوں جماعت احمدیہ نے جلسہ منعقد کیا جس میں بہت سے مقررین نے حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر تقاریر فرمائیں اور رسولِ عربی صلے اللہ علیہ وسلم کی شان قدسیت کو بیان کیا جنہوں نے شہریت کے ایسے اصول وضع فرمائے ہیں جن سے دنیا آج تک راہنمائی حاصل کرتی چلی آرہی ہے۔ماہنامہ البشری جو پندرہ سال سے اسلام و احمدیت کا نور پھیلا رہا تھا فلسطین شن: اس سال بھی باقاعدگی سے جبل الرمل حیا سے چھپتا او ر و م میں بھجوایا جاتا رہا۔البشری میں حضرت مہدی مسعود علیہ السلام کی تصانیف میں سے آئینہ کمالات اسلام الهدى والتبصرة لمن يری کے اقتباسات کے علاوہ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب کا مکمل عربی ترجمہ بھی چھپا جو السید عبدالله اسعد العودہ کی کاوش کا نتیجہ تھا۔علاوہ انہیں ابی عبد الرزاق کے قلم سے براہین احمدیہ حصہ پنجم کے ایک حصہ کا ترجمہ شائع ہوا۔الاستاذ رشدی البسطی کے متعدد نوٹ اور مضامین بھی شامل اشاعت ہوتے رہے۔البشری نے اخبار اليوم، یانا اور النهضه الاردن (۲۲ - فروری نشاہ ) کے حوالہ سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی اس معرکۃ الآراء تقریر کا بھی ذکر کیا جو آپ نے سلامتی کونسل میں مسلسل مات گھنٹے تک کی اور جس میں ثابت کیا تھا کہ کشمیر ہر اعتبار سے پاکستان کا جزولاینفک ہے۔بیرون پاکستان جماعت احمدیہ کا سب سے پہلا کالج ۳ ماه صلح ۲۹ ۱۳۰ کو یا گولڈ کوسٹ (غانا) میں گھلا اور ڈاکٹر سفیرالدین بشیر احمد پی ایچ ڈی لندن اس کے غاناشن پہلے پرنسپل مقرر ہوئے لیے یہ کالج ابتداء میں کماسی کی ایک عارضی عمارت میں کھولا گیا۔(۲۹۵ به جريدة القبس وشق ١٧ صفر ۱۳ مطابق ۲۸ نومبر ۵ه : ه باه شهادت ۱۳۳۹ : سه الفضل ۲ احسان ۲۹ مطابق 4 جون ۱۹۵ ص ۳ +