تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 17
12 مولانا جلال الدین صاحب شمس قائمقام ناظر اعلی نے پڑھ کر سنائیں :- دعا کے وقت اینٹوں اور گارے تک میں صفیں ہوں گی۔ار صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک صفت۔دوسری صف خاندان حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے نرینہ افراد گی۔۳ تیسری صدف، واقفین زندگی کی۔یہ تینوں متوازی ہوں گی اور اینٹ گارا اس کی جگہ سے پکڑ کر وہاں تک پہنچائیں گی جہاں میں کھڑا ہوں گا۔ایک ایک تغاری گارے یا چھونے کی اور تین تین اینٹ ہر ایک صدف کے لوگ مجھ تک پہنچائیں گے۔اس وقت چند حفاظ ادعیہ رفع بیت اللہ بلند آواز سے دہراتے جائیں گے اور ساتھ ہی سب حاضرین دعائیں دہرائیں گے۔اس کے بعد نماز مغرب ہوگی عصر کی نماز بنیاد رکھنے سے پہلے ہوگی۔اس کے بعد بنیاد شروع ہو گی۔والسلام خاکسار مرزا محمد و احمد بعد ازاں حضور کے ارشاد پر مزید یہ اعلان ہوا کہ ان کے علاوہ چوتھی صفت امراء جماعتہائے احمدیہ اور ناظران سلسلہ کی اور پانچویں صف ماہرین قادیان کی ہوگی۔باقی دوست ایک طرف کھڑے ہو کر دعا میں مشغول رہیں۔اس کے بعد حضور نے اس نظام پر پانی کے خاندان حضرت مسیح موعود کی خواتین بہار کہ اور صحابیات و مهاجرات قادیان کی دو مزید صفوں کا بھی حکم دیا۔ا حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے نماز عصر اسی جگہ پڑھائی نماز عصر اور بنیاد کی تقریب جہاں بنیاد رکھی جانے والی تھی اور جہاں دھوپ سے بچاؤ کے د لئے خیمہ کا انتظام کیا گیا تھا جب حضور نماز عصر سے فارغ ہوئے تو اس کے معا بعد تمام دوست او پر کی بیان کر دو ترتیب کے مطابق اپنی اپنی صفوں میں پہنچ گئے اور پھر دست بدست حضور کی خدمت میں اینٹیں اور سیمنٹ کی تاریاں پہنچائی گئیر رید ، اینٹیں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زینہ افراد نے نہین انیمیہ صحابہ حضرت مسیح موعود علی الصلوۃ والسلام نے تین انتار واقعین زندگی نے