تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 278 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 278

۲۷۳ حکومت مان لی جاتی ہے تو اس سے پاکستان کی قومی وحدت پارہ پارہ ہو جائے گی اور شیعہ اشستی اور مسلمان اور احمدی کا جھگڑا ہماری زندگی کا معمول ہو جائے گا۔اس لئے جہاں تک حکومت کا تعلق ہے جمهوری نظام میں کسی کے مذہبی اعتقادات سے بحث نہیں کی جاتی۔اگر منڈل مملکت کا وفادار ہے تو وہ ہزار ایسے مسلمانوں سے جو مملکت کے وفادار نہیں اچھا ہے۔اسی طرح اگر ظفر اللہ خاں اپنے فرائض ایمان داری سے سر انجام دیتا ہے تو اسے احمدی بنا کر مطعون کرنا قانوناً غلط قرار دینا چاہیئے ہے (۲) اخبار تنظیم پشاور نے لکھا: کون نہیں جانتا کہ امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمو د نے بنفس نفیس حضرت قائد اعظم کے حضور میں پہنچ کر اپنے ور اپنی جماعت کے حلقہ و ناداری کا نہ صرف یقین و لا یا بلکہ پاکستان کے حصول میں مسلمانوں کی دوسری جماعتوں سے بڑھ کہ من حیث الجماعت مالی و جانی قربانیان پیشیں کیں اور نا قابل تلافی نقصانات برداشت کئے اور حضرت میرزا بشیر محمود نے اپنی جماعت کو مسلمانوں کے سواد اعظم سے وانگی کے خطبات و بیانات ارشاد فرمائے کشمیر کے سلسلہ میں آپ کی جد وجہد عیاں ہے۔آپ کے والد کے ایک بہت بڑے چہیتے مریدیخان سر محمد ظفر اللہ خان ابھی تک پاکستان کے ایک بہت بڑے منصب پر فائز ہیں اور قلمدان وزارت خارجہ سنبھالے ہوئے ہیں۔آپ نے جس قابلیت سے مجلس اقوام میں پاکستان، سیدر آباد دکن او کشمیر کے مسائل پیش کئے ہیں وہ آتی دنیا کے لئے مشعل راہ اور تاریخ میں سنہری حروف سے نقش کرنے کے قابل ہیں ہم خود قادیانی نہیں اور نہ ہمیں پیر پرستی ہے کوئی واسطہ ہے۔ہمیں یہ معلوم ہے کہ اگر صدیق اکبر، عمر فاروق عثمان بختی اور علی المرتضی محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لاتے تو ان کو بھی اسلام میں کوئی وقعت نہ ہوتی صحابہ کرام اور اُن کے نقش قدم پر چلنے والے مسلمانوں کو جو عورت نصیب ہوتی ہے وہ حضرت عمر کے الفاظ میں صرف مسلمان ہونے کی صورت میں اسلام نے ہی بخشی ہے۔ہم جماعت الحمدیہ کو خواہ وہ لاہوری ہو یا قادیانی اسلامی فرقوں کی ایک کڑی تصور کرتے ہیں اور یورپ و جرمن ہیں اس جماعت کی دونوں شاخوں کی سرگرمی کو بنظر تحسین دیکھتے ہیں ہمیں بعض تبلیغی حلقوں اور سلم معاصرین سے شکایت ہے کہ وہ اس جماعت کے بعض اراکین پر جاسوسی اور اس قسم کے کئی اور الزامات تراشتے ہیں۔ہمیں پاکستان کے لئے مرزا بشیر الدین کو جس کو ہم مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا فرزند ہونے کے ه آفاق" لاہور ۱۶ جولائی 192 مرحث بعنوان" آخر جمہوری ریاست ہی کیوں ؟