تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 16
14 حضرت امیر المؤمنين المصلح الموعودة الشفاء / اکتوبر کو لاہور حضرت میر المومنین کی تشریف آوری سے 9 بجکر چالیس منٹ پر بذریعہ کارروانہ ہوئے اور بارہ پیکر پینتالیس منٹ پر ربوہ پہنچے حضور کے ہمراہ خاندان مسیح موعود کی بیگمات کے علاوہ صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منو را حمد صاحب اور مکرم میاں محمد یوسف صاحب پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھے۔چونکہ الفضل میں اس مسجد کے سنگ بنیا د رکھے جانے کی خبر شائع ہو چکی تھی اور بیرونی مخلصین کی آمد دفتر پرائیویٹ سیکر ٹری کی طرف سے بذریعہ تار بھی جماعتوں کو اطلاعات بھیجوائی جاچکی تھیں اس لئے لاہور منٹگمری ، سرگود با شر، چک علم جنوبی سرگودھا ، چک ۲۳، چات چک عشه ، چک ،۹۹، چک ۱۲۲ سرگودہا، لائل پور، چک مثلا لائل پور ، جھنگ مگھیانہ ، جڑانوالہ سیالکوٹ شہر، میانوالی ، بھکر، چنیوٹ، احمدنگر اور لالیاں وغیرہ کے بہت سے مخلص افراد اس تاریخی تقریب میں شمولیت اور دعا کی غرض سے ربوہ پہنچ گئے۔میانوالی سے صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب۔A۔S۔ڈپٹی کمشنر بھی تشریف لائے۔لاہور سے آنے والے دوستوں میں شیخ بشیر احمد صاحب بی۔اسے ایل ایل بی ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لاہور، چوہدری اسد اللہ خان صاحب، میاں غلام محمد صاحب اختر پرسنل آفیسر ریلو ے ، چوہدری عبدالحمید صاحب انجنیئر، اور چوہدری عبد اللہ خان صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔جماعت احمد یہ ربوہ کے تمام مردوں اور بچوں کے علاوہ مقامی خواتین بھی دعا کی غرض سے موجو د تھیں۔حضرت مصلح موعود کی ہدایت خصوصی موعود بنیا د رکھے جانے کا وقت بعد نماز عصر مقررتھا اور چونکہ یہ ایک مقدس تقریب تھی جس میں اللہ تعالیٰ کے گھر کی بنیاد رکھی جانے والی تھی اس لئے حضرت امیر المومنین الصلح الموعود کی ہدایت کے ماتحت نظارت علیا نے وہ دعائیں جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت فرمائی تھیں دستی پریس پر طبع کر وا دی تھیں تا لوگ ان دعاؤں کو یاد رکھیں اور بنیاد رکھے جانے کے وقت اور اس سے قبل بآواز بلند دہراتے رہیں چنانچہ نماز عصر کے وقت یہ طبع شدہ دعائیہ اور اق لوگوں میں تقسیم کئے گئے اور سب دوست ان دعاؤں کو دہراتے رہے۔عصر کی نماز سے قبل حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کی مندرجہ ذیل ہدایات موصول ہوئیں جو