تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 264 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 264

۲۵۹ اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم : نحمده ونصلى على رسوله الكريم هو الله خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اصر چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب کے باہ میں ایک تشویش اکتبر حال ہیں، اخبارات میں شائع ہوا ہے کہ سر ظفر اللہ خان صاحب کو تہدید کی خطوط ملے ہیں جو ہمیں انہیں قتل کی دھمکی دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں ہر شر سے محفوظ رکھے۔اس بارہ بین احباب کی اطلاع کے لئے تحریرہ ہے کہ ۱۹۴۷ء کی شوری سے پہلے جب یکی سندھ گیا تو میں نے وہاں یہ رویا دیکھا کہ کوئی مجھے کہتا ہے یا یکں نے اخبار میں دیکھا ہے کہ نیویارک ریڈیو اعلان کر رہا ہے کہ سر ظفر اللہ خان کو شہید کر دیا گیا ہے لیکن نے اُس وقت بچوہدری صاحب کو اس بارہ ہیں، اطلاع دی کہ گہ خواب میں قتل سے مراد کوئی بڑی کامیابی یا ظاہری تعبیر کے لحاظ سے یہ خواب مندر بھی ہو سکتی ہے اس لئے وہ احتیاط رکھیں۔اب اس تازہ خیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خواب کے مضمون کو ظاہری صورت میں پورا کرنے کی سکیم دشمنوں کے مد نظر ہے۔مختلف اطلاعات بلا کر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ ہندو لیڈروں نے پہلے احرار کے ذریہ سے پاکستان میں چو ہدری صاحب کے خلاف پراپیگنڈا کر وایا اور انہوں نے بعض مجالس ہیں یہاں تک کہا کہ امام جماعت اگریہ اور سر ظفراللہ کو قتل کیوں نہیں کر دیا جاتا جیسا کہ مجھے بعض لوگوں نے آج سے کوئی ایک ماہ پہلے اطلاع دی تھی اس پراپگینڈا سے استہ کھولنا مقصود تھا کہ اگر خدانخواستہ دشمن اپنے منصوبہ میں کامیاب ہو تو ہندو لیڈر کر سکیں کہ ان کے مارنے والے خود مسلمان تھے۔اس کے ساتھ ہی کہا جاتا ہے ایسی سکیم کو اور زیادہ موثر بنانے کے لئے بنگال سے چند ہندو نوجوان مسلمانوں کے لباس میں بھیجوائے گئے ہیں جو امریکہ میں چو ہدری صاحب پر حملہ کریں تاکہ ہندو لیڈر یہ کر سکیں کہ ان کا اس کام میں کوئی دخل نہیں یہ کام مسلمانوں نے خود طیش میں آ کر کیا ہے۔حالانکہ احراری پراپیگنڈا بھی ان کے اشارے سے شروع کیا گیا ہے اور اب یہ کوشش بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔اللہ تعالیٰ کی نیت ہے کہ بعض دفعہ کسی مندر۔امر سے ہوشیار کرنے کے لئے وہ خواب یا السلام سے