تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 238 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 238

۲۳۳ جماعت احمدیہ نے بھی ایک میمورنڈم تیار کی اور غالباً گورداسپور سلم لیگ کی طرف سے بھی ایک میمورنڈم تیار کیا گیا۔اور وہ لوگ جنہوں نے یہ میمورنڈم تیار کیا تھا ان کے نام یہ ہیں۔غلام فرید صاحب ایم ایل اے شیخ کبیر الدین صاحب شیخ شریف حسین صاحب وکیل جو احراریوں کے لیڈر تھے مولوی محبوب عالم صاحب ہو اوکاڑہ میں احراریوں کے لیڈر بنے ہوئے ہیں اور مرزا عبدالحق صاحب وکیل۔کیا یہ لوگ مسلم لیگ کو مسلمانوں کا واحد نمائندہ خیال نہیں کرتے تھے۔اسی طرح امرتسر کی ایک نی نے بھی علیحدہ یور نام پیش کرنے کا ارادہ کیا۔اور بعض انجنوں نے جالندھر اور ہوشیار پور سے بھی یہی ارادہ کیا کہ علیحدہ میمورنڈم پیش کیا جائے حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک کے اندر ایک خاص جوش تھا کہ کسی طرح پاکستان کی طرف سے زیادہ سے زیادہ میمورنڈم بنائیں اور یہ کہیں کہ ہم پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اس کا حکومت پر اثر ہوگا۔گویا صرف قادیانیوں نے ہی علیحدہ میمورنڈم پیش نہیں کیا بلہ مسلم لیگ کی ایک شاخ نے بھی ایسا کرنے کا ارادہ کیا۔اور جنہوں نے علیحدہ میمورنڈم پیش کرنے کا ارادہ نہیں کیا وہ وہی لوگ تھے جو کہتے تھے ہم پاکستان کی آپ بھی نہیں بننے دیں گے۔اس لئے نہیں کہ وہ سلم لیگ کے نمائندے تھے بلکہ اس لئے کہ وہ پاکستان کا وجود ہی گوارا نہیں کرتے تھے۔ورنہ خود لیگیوں نے بھی علیحد میمورنڈم تیار کئے تھے تاکہ لیگ کو مضبوطی حاصل ہو جب میمورنڈم پیش کرنے کا وقت قریب آیا اور چوہدری صاحب مسلم لیگ کی طرف سے نمائندہ مقرر ہوئے تو انہوں نے جماعت کو اطلاع دی کہ فیصلہ یہ ہوا ہے کہ دونوں فریق کی طرف سے صرف کانگریس اور لیگ کے میمورنڈم پیش ہوں کیونکہ دو ہی نقطہ نگاہ ہیں اور یہ دونوں انجمنیں دو مخالف خیالات کی نمائندگی کرتی ہیں اس پر جماعت نے اپنے میمورنڈم کے پیش کرنے کا ارادہ چھوڑ دیا (یاد رہے کہ احمدیہ میمور نام تیار کر کےمسلم لیگ کو بھجوا دیا گیاتھا تاکہ کوئی اعتراض ہو تو وہ بتا دیں مگر انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا ) اس کے بعد کانگریس نے کسی مصلحت کے ماتحت اپنے وقت میں سے کچھ وقت سکھوں کو دے دیا اور اسی طرح اچھوتوں کو بھی۔شاید ان کا یہ مطلب ہو کہ سکھوں کے مطالبے تو وہی ہیں جو کانگریس کے ہیں لیکن چونکہ یہ اجڑ قوم ہے کہیں یہ نہ کہ دیں کہ جب تک سردار جی نہ بولیں گے ہم راضی نہیں ہوں گے۔اور جب سیکھ بولے تو شاید چھو توں میں بھی یہ خیال پیدا نہ ہو جائے اس لئے ان کو بھی وقت دو رپہلے فیصلہ سکے