تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 224
۲۱۹ فصل پنجم سال انجلسہ کو اور مصیل مواد کی طرف سے مخالفین احمدی دو الزامات کا حقیقت افروز جواب راوده کا تیسرا سالانه جلسه ۲۶ تا ۲۸ با وفتح های دبیرستان کو منعقد ہوا جس میں پاکستان کے علاوہ مشرقی افریقہ ، برٹش گی آنا، جرمنی، ہالینڈ، بورنیو اور انڈہ دیش یا وغیرہ ممالک کے احمدی بھی کثیر تعداد میں شامل ہوئے ہیں اُن ایام میں احمدیت کے مخالف احراری اور دوسرے علماء عوام کو بھڑ کانے کے لئے نہایت وسیع پیمانے پر غلط فہمیاں پھیلا رہے تھے خصوصاً حضرت مسیح موعود کے معاذ اللہ برطانوی ایجینٹ ہونے اور ہ کے باؤنڈری کمیشن میں الگ میمورنڈم پیش کر کے ضلع گورداسپور کے کٹوانے کے الزامات کو ملکہ پھر میں ہوا دی جارہی تھی۔سید نا حضرت امیر المونین اصلح الموعود نے جہاں اپنی روح پرور اور پر معارف تقاریر میں بہت سیسی علمی، تربیتی اور تبلیغی مسائل پر روشنی ڈالی وہاں ان دونوں الزامات کا (۲۷ مادہ فتح کو بڑی شرح و بسط سے تنقیدی جائزہ لیا اور نہایت مدلل مسکت اور حقیقت افروز جواب دیا۔شروع میں حضور نے بتایا کہ اس وقت جو جماعتیں ہماری مخالفت میں پیش پیش ہیں وہ مجلس احرار، علامہ مشرقی کی اسلام لیگ اور اسلامی جماعت ہے۔مجلس احرار نے اپنی تقاریر میں متواتر ہمارے قتل کی تحریک کی ہے اور ٹیسٹنگر پر مبین کھلے بندوں یہ کہا ہے کہ ایک رات تمام احمدیوں کے مکانوں پر نشانات لگا دو اور پھر کسی وقت ان سب کو قتل کر دو کیسی جگہ گورنمنٹ کو توجہ دلا رہی ہے کہ وہ ہمیں خلاف قانون قرار دے دیں یا اقلیت قرار دیدیں یہ لوگ جو چاہیں کہیں لیکن ان کے نز دیک پاکستان میں چونکہ اسلامی حکومت ہے۔اس لئے ہمیں انکی باتوں لے تفصیلی کو الف الفضل ۱۳۱ دسمبر ۱۹۹۵، ۲-۳-۱۳ جنوری ۱۹۵۱ء میں شائع ہوئے پر