تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 211
۲۰۶ عوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم } نحمده ونصلى على رسوله الكريم والسلام على عبده المسيح الموعود هوالت خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ امر اسے برادران کرام جو قادیان میں مسنون جلسہ سالانہ کے موقع پر ہندوستان کے مختلف کناروں سے جمع ہوئے ہیں میں پہلے تو آپ لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ مرکز میں اسکے مقرر کردہ جلسہ میں اس کے مامور کے مقدر کردہ ایام میں خدائے وحدہ لاشریک کا ذکر بلند کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ احمدیت ایک صوفیوں کا فرقہ نہیں ہے بلکہ احمدیت ایک تحریک ہے، ایک پیغام آسمانی ہے جو دنیا کو بیدار کرنے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بندے کے لئے ایسے وقت میں نازل ہوا ہے جبکہ دنیا خدا کو بھول چکی تھی اور مذہب سے بیزار ہو چکی تھی اور اسلام ایک نام رہ گیا تھا اور قرآن صرف ایک نقش رہ گیا تھا۔نہ اسلام کے اندر کوئی حقیقت باقی رہ گئی تھی اور نہ قرآن کے اندر کوئی معنے رہ گئے تھے۔اسلام اسلام کہنے والے تو کروڑوں دنیا میں موجود تھے قرآن پڑھنے والے بھی کروڑوں موجود تھے لیکن نہ مسلمان کہلانے والے اسلام پر غور کرتے تھے نہ قرآن پڑھنے والے قرآن کے معنے سمجھتے تھے۔خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس غفلت اور اس ہستی کو دور کرے اور اسلام کو نئے سرے سے دنیا میں قائم کرے اور پھر اپنا وجود اپنے تازہ نشانوں کے ساتھ دنیا پر ظاہر کرے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی کمالات اپنے پیروؤں اور اپنے جانشینوں کے ذریعہ سے دنیا کو دکھلائے اور آپ کے حسن سے جہان کو روشناس کرنے پر جہاں تک فرد کی اصلاح کا سوال ہے کسی ایک فرد کا بھی اِس طریق کار کو اختیار کر لینا احمدیت کے مقصد کو پورا کر دیتا ہے لیکن جہاں تک اسلام کو دنیا میں پھیلانے کا سوال ہے کسی ایک فردیا دن ہزار افراد کے ساتھ بھی یہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا بلکہ یہ قصد اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جبکہ اسلام اور احمدیت کے پیغام کو ہندوستان اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلا دیا جائے ، سوتوں کو جگایا جائے ، غافلوں کو ہوشیار کیا جائے ، وہ جن کو توجہ نہیں ان کو توجہ دلائی جائے، وہ جو اسلام سے متنفر ہیں ان کے دل میں اسلام کی محبت پیدا