تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 209 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 209

آبادی میں اضافہ ہوا۔۲۰۴۔احمدی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے پرائمری سکول جاری ہوا۔- نئے مبلغین پیدا کرنے کے لئے جامعتہ المبشرین کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۵ - مشرقی پنجاب میں بعض غیر مسلموں نے خفیہ طور پر قبو ان اسلام کیا اور بعض نو مسلم خوش عقیدگی سے نے قبول نومسلم ۰۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود کا ترک بھی مانگنے لگے ہے 4 - نظارت بیت المال قادیان کے ماہ وفاه ۱۳۳۲ کے گوشوارہ آمد سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت تک ہندوستان و کشمیر کی حسب ذیل جماعتیں جماعت احمدیہ کے مالی جہاد میں سرگرم عمل ہو چکی تھیں :- قادیان۔دہلی۔بچو پور شاہجہان پور۔انبیٹہ لکھنو ساندھی علی گڑھ۔جے پور اٹا وہ۔میرٹھ کا نور۔راٹھ مسکرا۔بنارس علی پور کھیڑا۔امروہ۔رام پور کشن گڑھے جھانسی مصالح نگر مظفر پور پٹنہ۔بھاگلپور۔موسی بنی مائنز خانپور ملکی۔جو بھنڈار۔مونگھیر جمشید پور کلکتہ دار جیلینگ سونگھڑہ۔بھدرک۔پنکالوں کوڑا پلی کشک۔سری یا ریدن یدا۔پوری۔کیرنگ۔کو ٹیلہ کندرہ باڑہ۔او ایم پی سنبل پور سر لونیا گاؤں بیٹی۔ویسیگوالا۔باندھ حیدر آباد سکندر آباد یادگیر- دیودرگ - اولکور- رائچور شموگہ کینا نور کالی کٹ بنگلوری پلینگا ڈی سامان کو لم۔ٹیلی چری - آسنور یشورت- ماندوجین کند پورہ۔بانڈی پورہ - بھدرواہ۔یہ صرف اُن جماعتوں کے نام ہیں جنہوں نے ماہ وفا میر میں مرکزی چندوں میں حصہ لیا۔۔اس ماہ حیدر آباد دکن نے سب سے زیادہ چندہ دیا دوسرے نمبر پر قادیان اور تیسرے نمبر پر مدراس و میسور کی جماعتیں رہیں۔۔اس سبال (مادہ ہجرت میں ۲۴ درویش اپنے گھر یلو حالات کی وجہ سے پاکستان آئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی کوشش سے اِس سال درویشوں کو پہلی بار یہ موقع ملا کہ وہ واہگہ کی ہند و پاک سرحد پر اپنے اعزہ واقارب سے ملاقات کر سکیں چنانچہ اس دور ١٩٥٠ له رساله در ویشان قادیان ص ۲۲ (بریم و رویشان قادیان مطبوعه دسمبر نشانه ) سے مکتوب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب الحضور حضرت مصلح موعود مورخه ۵ - امان ۱۳۲۹