تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 208
۲۰۳ آنا چاہتے ہیں۔وہ قریباً سب کا سب ایسا ہے جس کو سلسلہ خرچ دے رہا ہے۔وہی خرچ ہندوستان والوں کو کیوں نہیں دیا جا سکتا۔وہاں ہندوستان والے آدمی بلائے جائیں انہیں گزارے دئے جائیں اور جو آدمی واپس کئے جانے چاہئیں ان کو واپس کروا دینا چاہیے۔ان کی تعداد زیادہ سے زیادہ سو ہے کیونکہ سب پاکستان واپس آنا نہیں چاہتے۔پس آسانی کے ساتھ یہ تبادلہ ہوسکتا ہے بغیر قادیان کو خطرہ میں ڈالنے کے یہ نیز فرمایا : قادیان ایک مذہبی مرکز ہے مقبرہ یا درگاہ نہیں ہے تبلیغ کے وسیع استے ہندوستان میں کھلے میں پاکستان سے بھی زیادہ لیکن نئے علماء پیدا کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی ہم پاکستان سے تو علماء وہاں نہیں بھیج سکتے ھی چھ سات علماء جو وہاں ہیں انہوں نے ہی علماء پیدا کرنے ہیں۔اگر نئے علما و پیدا کئے بغیر یہ لوگ مرگئے تو وہ علاقہ علماء سے خالی ہو جائے گا۔۔۔۔میں دیہاتی مبلغ قادیان میں میٹھا ہے یکی بار بار لکھتا ہوں کہ ان کو باہر نکالو اور ان کی جگہ ہندوستان سے دوسرے آدمی منگواؤ۔یہ ہیں آدمی اگر سارے ہندوستان میں تبلیغ کرے گا تو کتنا بڑا تغیر پیدا ہو جائے گا۔۔۔۔اگر بینش خاندان باہر سے منگوائے جائیں اور انہیں تیس روپیہ ماہوار دیا جائے تو چھ سو روپیہ ماہوار خرچ پڑے گا۔ایک تو یہ فائدہ ہو گا کہ ان کے بیوی بچے بھی ساتھ آجائیں گے دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ وہ آزادی کے ساتھ ملک میں پھر سکیں گے۔تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیں نئے شہروں میں ہماری تبلیغ شروع ہو جائے گی مرون بیس شہروں کی تنظیم سے ہی چھ سوروپیہ چھوڑ ایک ہزار روپیہ مہینہ کی آمد بڑھ جائے گی اور ایک سال کے اندر نئے احمدیوں کے ذریعہ سے دو تین ہزار روپیہ ماہوار کی آمد بڑھ جائے گی " نظام عمل میں خوش گوار تغیر حضور کے ان تاکیدی ارشادات نے درویشانی قادیان کے خوشگواری نظامی عمل میں ایک خوشگوار تبدیلی پیدا کر دی اور اُس کے متعدد اثرات رونما ہوئے۔مثلاً :- ۱ - ۲۲ شہادت (اپریل) کو قادیان سے بارہ مستلقین ہندوستان کے مختلف اطراف میں بھجوائے گئے جس کے نتیجہ میں جماعت کی تربیت و تبلیغ میں نئی روح پیدا ہو گئی۔۲ - یوپی سے ۳۵ احمدی خاندانی منتقل ہجرت کر کے قادیان میں آگئے جس سے قادیان کی احمد می