تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 207 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 207

٢٠٢ کا لج وہاں بنانے کی توفیق پائیں گے۔جو زمانہ زندہ رہنے کی کوشش کا تھا اللہ تعالیٰ نے خیریت سے اس زمانہ کو گذار دیا ہے اب آپ نے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔نئے ماڈل سوچنے کا ابھی سوال نہیں۔قادیان میں جو کچھ پہلے تھا اسے دوبارہ قائم کرنے کے لئےکسی سکیم کے سوچنے کی ضرورت نہیں وہ سکیم تو سامنے ہی ہے اس کے لئے صرف ان باتوں کی ضرورت ہے:۔اول : قادیان میں عورتوں، بچوں کا مہیا کرنا۔اڑیسہ، کان پور اور بہار میں بہت غریب عورت مل جاتی ہے جو شادیاں کر سکتے ہیں ان کی ان علاقوں میں شادیاں کروائیے اور قادیان میں عورتیں سوائیے۔دوم:۔ہزاروں ہزار مسلمان جو مارا گیا ہے ان کے بیوی بچے ابھی دہلی اور اس کے گردو نواح میں موجود ہیں ایسے پندرہ نہیں بچے منگوائیے اور پرائمری سکول کھول دیجئے۔دس نہیں نوجوان باہر سے وقف کی تحریک کر کے دیہاتی مبلغ بنانے کے لئے منگوائیے اور مدرسہ احمدیہ قائم کر دیجئے۔اگر پرانا پریس نہیں ملتا تو نئے پر لیس کی اجازت لیجئے۔دستی پر لیس پتھروں والا ہو یہ سو دو سو میں آجاتا ہے بلکہ خود قادیان میں بنوایا جاسکتا ہے اس پر ایک پرچہ ہفتہ وار چھا اپنا شروع کر دیئے۔آپ لوگوں کے لئے کام اور شغل نکل آئے گا۔کچھ لوگ کا تب بن جائیں گے، کچھ کا غذ لگانے والے اور سبھی چلانے والے بن جائیں گے اور کئی لوگوں کے لئے کام نکل آئے گا۔آبادی بڑھے گی تو خالی جگہوں کو دیکھ کر لوگوں کو جو لالچ پیدا ہو جاتا ہے وہ جاتا رہے گا اور جو خالی ٹکڑے پڑے ہیں ان میں نئی عمارتیں بن جائیں گی۔سور: حکیم خلیل احمد صاحب میرے خیال میں اگر وہاں آجائیں یا اور کوئی حکیم تو ایک مطلب بھی کھول دیا جائے اور ایک طبیہ کلاس کھول دی جائے۔دیہاتی مبلغ بھی طلب سیکھیں اور مرزا وسیم احمد ما طب سیکھ لیں اور ایک بہت بڑا دواخانہ کھول دیا جائے جس کی دوائیں سارے ہندوستان میں جائیں۔خدا چاہے تو لاکھوں کی آمدنی اس ذریعہ سے ہو سکتی ہے۔یہ خط تمام ممبران انجمن کو شنا دیں تاسب لوگ اس تنظیم کو اپنے سامنے رکھیں اور جلدسے جلد اس سکیم کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے " اس سکیم کو جلد از جلد بروئے کارلانے کے لئے حضور نے اپنے مکتوب مورخہ ۳۱ صلح ۱۳۲۹ / جنوری ۱۹۵ء میں تاکیدی ارشاد فرمایا کہ: " ایک ہی طریق آپ کے لئے کھلا ہے کہ ہندوستان سے نئے آدمی منگوائیے۔۔اور جو پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں واپس آ جائیں۔۔۔ایک سوختی میں آدمی کی درخواست آچکی ہے جو پاکستان واپس