تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 8
A قابل اعتراض سمجھ کر اس کا داخلہ بند کر دیا۔اور اب تو قریباً سارے ہندوستان میں ہی سوائے دہلی کے اس کا داخلہ بند ہے بہندوستانی حکومت کے پاس جب اس کے متعلق احتجاج کیا گیا تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ مرکزی حکومت نے افضل کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا اور براہ راست اس کے ماتحت علاقوں میں، اس کا داخلہ ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔باقی رہیں صوبہ جاتی حکومتیں سو وہ اس معاملہ میں آزاد ہیں۔اگر کسی صوبہ جاتی حکومت نے ایسا کیا ہو تو آپ اس سے براہِ راست احتجاج کریں۔الفضل چونکہ ایک مذہبی پر بچہ تھا اس لئے ہندوستان کی جماعتوں کے جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس پرچہ ہیں سیاسی مضامین کلینتا ممنوع قرار دئے جائیں تا کہ کسی بغیر گورنمنٹ کو اس پر اعتراض کا موقع نہ ملے لیکن یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہوئی اور باوجود اس کے کہ الفضل میں سیاسی مضمون چھپنے بند ہو گئے ہندوستان کے مزید صوبوں میں اس کا داخلہ بند کیا جاتا رہا۔اور جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے اب قریباً سارے ہندوستان میں اس کا داخلہ بند ہے۔جس طرح ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ الفضل کے کونسے مضامین کی وجہ سے اس کا داخلہ ممنوع قرار دیا جانے لگا ہے اسی طرح ہماری سمجھ میں یہ بات بھی نہیں آئی کہ الفضل میں سیاسی مضامین کے ممنوع ہو سجانے کے باوجود اس کا داخلہ مزید صوبوں میں کیوں بند کیا جاتا رہا مگر ہر حال یہ حکومت اپنے مصالح کو خود سمجھتی ہے اور دوسرے لوگوں کی سمجھ میں خواہ وہ مصالح آئیں یا نہ آئیں ان کے لئے احکام حکومت کی پابند ہی لازمی اور ضروری ہوتی ہے خصوصاً جماعت احمدیہ کے لئے جس کے اصول میں یہ بات داخل ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہو اس کے احکام کی فرمانبرداری کرو اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ بجائے اس کے کہ الفضل کے خلاف جو قدم اٹھایا گیا ہے اس پر پروٹیسٹ کر میں اور اس کے ازالہ کے لئے کوئی جد و جہد کریں گیا کریں ایک نیا اخبار جاری کر دیا جائے جو کلیتاً سیاسیات سے الگ ہوتا کہ ابن جماعت ہائے احمدیہ کی تنظیم اور تبلیغ میں کوئی روک پیدا نہ ہو جو ہندوستان میں رہتی ہیں۔اس ارادہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کرتے ہوئے کہ وہ اس پر بچہ کو با برکت بنائے اور ان مقاصد کی اشاعت میں کا میاب کرے جن کا ذکر ذیل میں کیا جائے گا۔یکن الرحمت کو بھاری کرتا ہوں۔یہ پر بچہ خالص مذہبی پرچہ ہو گا۔اور جہاں اس کی پالیسی یہ ہوگی کہ یہ افصاحت اور عدل کے قوانین کے مطابق مختلف مذاہب کے لوگوں میں عقل اور اخلاق کی پیروی