تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 7 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 7

هواند خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ بسم الله مجربها ومرسها ور الرَّحِيم الرَّحِمتُ اصر آج سے چھتیس سال پہلے نہایت خطرناک حالات اور بالکل بے بسی اور بیکسی کی صورت میں میں نے الفضل اخبار ہماری کیا تھا جو پہلے ہفتہ وار شروع ہوا اور اب روزانہ اخبار کی صورت میں شائع ہو رہا ہے اور اس وقت ناک کے مقتدر پر جو نہیں شمار کیا جاتا ہے تقسیم ہند کے بعد یہ پرچہ ہندوستان سے پاکستان میں آ گیا۔اپنی مرضی سے نہیں کیوری سے۔ملک کے حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے کہ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا رہنا اور خر بی پنجاب میں ہن۔وؤں اور سکھوں کا رہنا قریباً ناممکن ہوگیا۔یہ حالات یقیناً تکلیف دہ تھے تخلیے ، وہ ہیں اور تکلیف دہ رہیں گے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان حالات کے پیدا کرنے میں قدرت کی کوئی مصلحت بھی تھی۔وہ کیا تھی ؟ شاید اس کا بیان ابھی مناسب نہ ہو۔بہر حال ان حالات کی وجہ سے علاوہ افراد کے بہت سے ہندو اور سکھ اخبار بھی مغربی پنجاب سے نکل کر مشرقی پنجاب کی طرف منتقل ہو گئے اور بہت سے۔لمانوں کے اخبار مشرقی پنجاب سے نکل کر مغربی پنجاب میں آگئے۔جہاں تک اخباروں کا تعلق ہے شائد نقصان ہندوؤں اور کھوں کا زیادہ ہوا اورمسلمانوں کام کیونکہ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا ایک ہی مقتدر اخبار افضل تھا لیکن مغربی پنجاب میں ہندوؤں کے کئی بڑے بڑے پرچے تھے مثلاً ٹربیون" " پرتاپ ملاپ جیت " ویر بھارت ہو پرچے جس ملک میں گئے لان کا ان کی ہمدردیاں اُن ممالک سے وابستہ ہوگئیں۔افضل گو ایک مذہبی پرچہ تھا لیکن کبھی کبھار اس میں نیم سیاسی مضامین بھی شائع ہوتے تھے جن میں اپنی دیرینہ پالیسی کے مطابق پوری احتیاط سے کام لیا جاتا تھا اور خیال رکھا جاتا تھا کہ بین الا قوامی منافرت کی کوئی است پیدا نہ ہو لیکن ایک پاکستانی اخبار کے جذبات ہر حال پاکستانی ہی ہو سکتے تھے میرے علم میں تو ایسی کوئی بات نہیں نگر ہندوستان کے بعض صوبوں کی حکمہ مفتیوں نے الفضل کے بعض مضامین کو