تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 174
۱۶۹ ہو گی کیونکہ میں ہی بولا کروں گا اور میں ہی کتاب دیکھا کروں گا چنانچہ میں نے آپ نے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنا شروع کر دیا ئیں قرآن کھول کر سامنے رکھ لیتا تھا اور مولوی صاحب پڑھتے بھی جاتے تھے اور ترجمہ بھی کرتے جاتے تھے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا یہ میری ذہانت کا نتیجہ تھا یا ان کے اخلاص اور محنت کا کہ چودہ پندرہ سال کی عمرمیں چھ ماہ کے اندر تھوڑا تھوڑا وقت پڑھنے کے بعد قرآن کریم کا ترجم ختم ہو گیا۔پھر جب میری عمر میں باٹھیں سال کی ہوئی تو آپ نے مجھے بلایا اور کہا۔میاں با تم مجھ سے بخاری شریف پڑھا کرو چنا نچہ میں نے بخاری شریف پڑھنی شروع کر دی۔گلے کی سوزش کی وجہ سے مجھ سے پڑھا نہیں جاتا تھا اور آنکھوں میں گھروں کی وجہ سے میں کتاب کو دیکھ نہیں سکتا تھا چنا نچہ آپ آدھ پارہ بخاری کا روزانہ اپنے سامنے رکھ لیتے تھے اور آدھے کا آدھا پارہ پڑھا دیا کرتے تھے۔آپ خود ہی پڑھتے جاتے تھے اور خود ہی ترجمہ کرتے جاتے تھے اور دو اڑھائی ماہ میں چھٹیاں وغیرہ نکال کر میں نے بخاری کا ترجمہ ختم یا پھر عربی کے کچھ ابتدائی رسالے بھی میں نے آپ سے پڑھے۔پس یہ علم تھا جو آپ نے مجھے سکھایا اور جس کی وجہ سے میرے اندر مزید مطالعہ کا شوق پیدا ہوا۔آپ جو کچھ مناسب سمجھتے تھے بیان کر دیتے تھے اور اگر میں سوال کرتا تو مجھے روک دیتے تھے۔ہمارے ایک ہم جماعت تھے۔تھے تو وہ بڑی عمر کے لیکن دوبارہ کلاس میں شامل ہوئے تھے ان کا نام حافظ روشن علی صاحب تھا۔آپ حضرت نوشہ کے خاندان میں سے تھے جن کا مزار رنمل تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں ہے اور گری کے مانگوں میں سے تھے آپ بڑے عالم تھے اپنی کے داباد ( حافظ مبارک احمد صاحب) نے ابھی قرآن کریم کی تلاوت کی ہے جب مولوی صاحب کوئی معنے بیان کرتے تو چونکہ حافظ روشن علی صاحب ذہین اور خاص علم حاصل کر چکے تھے اس لئے آپ اعتراض کرنا شروع کر دیتے تھے اور کہتے ان معنوں پر یہ یہ اعتراض پڑتا ہے۔میری عمر اس وقت ۲۰، ۲۱ سال کی تھی میں نے جب حافظ صاحب کو اعتراض کرتے دیکھا تو میرے دل ان بھی ایک گدگدی سی اُٹھی اور میں بھی اعتراض کرنے لگا مولوی صاحب کو مجھ سے بہت محبت تھی ایک دو دن تک تو آپ نے برداشت کیا پھر فرمایا میاں تمہارا معاملہ اور ہے اور محافظ صاحب کا معاملہ آور ہے یہ ہے مولادی۔ان کا طریق ہوتا ہے بال کی کھال نکالنا لیکن تم مولوی نہیں تم نے تو دین حاصل کرنا ہے۔پھر فرمایا میاں ! یہ تو دیکھو مجھے تم سے کتنا عشق ہے اگر میں ان معنوں سے جو بیان کرتا ہوں زیادہ معنے جانوں تو تمہیں نہ بناؤں اگر مجھے کوئی اور معنے معلوم ہوتے تو میں ضرور بتا دیتا اگر میں نے تمہیں کوئی