تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 170 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 170

میں کیسا بے بہا نگینہ پیدا ہوا تھا جس کی آب و تاب دیکھنے کے لئے مصلح موعود جیسا جلیل القدر اور موعود خلیفہ راشد آرہا تھا مکرم فضل الرحمن صاحب بسمل ہی۔اسے بی ٹی بھیرہ کے بیان کے مطابق شہر میں مخالفین نے جامع مسجد کے قریب بسوں کے اڈہ پر شورش برپا کرنے کا پروگرام بنایا تھا امنا حضور کی کار اور ہمراہی قافلہ کو ایک اور راستہ سے شہر میں داخل کیا گیا۔جب حضور کو اس کا علم ہوا تو حضور نے فرمایا کہ شورش والی جگہ سے گزرنے میں کوئی حرج نہ تھا اگر لوگ دُکھ بھی دیتے تو میں برشورات شت کرتا ہر حال قافلہ کی کاریں اور نہیں جونہی شہر میں داخل ہوئیں یوں دکھائی دیتا تھا جیسے سارے کا مارا بھیرہ ہی خیر مقدم کے لئے لپک پڑا ہے۔قافلہ بعدھر سے بھی گزرا سٹرکوں ، گلیوں اور راستوں کے دونوں طرف لوگ پرے کے پرے جمائے کھڑے تھے اور محمود کی زیارت کے شیدائی پروانہ وار گرتے پڑتے نظر آتے تھے بیسیوں طلباء بجامعتہ المبشرین اور جامعہ احمدیہ و مدرسہ احمدیہ کے اپنے اپنے ذرائع سے پہلے ہی یہاں پہنچ چکے تھے اور آس پاس کی جماعتوں کے احباب بکثرت اسوء تقریب میں شرکت کی برکت حاصل کرنے کے لئے صبح ہی سے موجود تھے۔سید نا حضرت امیر المومنین کار سے اُترتے ہی سب سے پہلے حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے آبائی مکان میں تشریف لے گئے جس کا بیشتر حصہ پہلے ہی مسجد پر شتمل تھا اور جس کے باقی حصے اب بھی تمام مسجد ہی کے نام وقف ہیں۔اسی مکان کے ایک کونے میں احباب جماعت نے حضور کو کرم دین نامی تنور والے کی رہائش گاہ بھی دکھائی جس کو اللہ تعالیٰ نے غیر احمدی ہونے کے باوجود محض حضرت خلیفہ ربیع الاول کی محبت اور عظمت کی وجہ سے تعصب و تنظر کے اس تند و تیز جھکڑوں میں ثابت قدم رہنے کی توفیق دی تھی۔ه مخدوم الطاف احمد صاحب پریزیڈنٹ جماعت احمدیہ میانی کا بیان ہے کہ حضور جب بھیرہ پہنچے تو بزرگوارم والد صاحب جناب مخدوم محمد ایوب صاحب ہی۔اسے (علیگ) صدر جماعت احمدیہ بھیرہ استقبال کے لئے آگے بڑھے تو حضور نے از راہ شفقت و محبت بزرگوارم والد صاحب سے معانقہ فرمایا اور یہ بات بزرگوارم والد صاحب کے زندگی بھر بڑے فخر کا موجب رہی + کے یہ الفضل کے رپورٹر کا بیان ہے مگر جناب فضل الرحمن صاحب ہمبل بی۔اے بی ٹی بھیرہ کے ایک مکتوب (مورخہ ابان هرات ) سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا نام لال تھا یہ ۳