تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 169 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 169

۱۶۵ کے دوستوں کی بھی مدت سے خواہش ہے کہ میں وہاں جاؤں۔اگر یہ سفر تجویز ہو تو راستے کے بڑے بڑے شہروں میں بھی ٹھر سکتے ہیں۔اور اگر یہ سفر کامیاب ہو تو اور علاقوں میں بھی جا سکتے ہیں۔بھیرہ بچھانے کا ارادہ مدت سے ہے کیونکہ وہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا وطن ہے یا لے حضور کی یہ مبارک خواہش ہجرت قادیان کے چوتھے سال ۲۶ ماه نبوت ۳۲۹۵ (مطابق ۲۶ نومبر شاہ) کو پایہ تکمیل کو پہنچی۔اس روز حضور دارالہجرت ربوہ سے صبح سات بج کر دس منٹ پر بذریعہ کار بھیرہ کے لئے روانہ ہوئے۔حضور کی قیادت میں جانے والا قافلہ پانچ کاروں اور ایک نہیں پر مشتمل تھا جس میں جماعت احمد یہ بھیرہ کے ممتاز احمدیوں کے علاوہ صدر انجمن احمدیہ کے ناظر ، تحریک تجدید کے وکلاء جامعہ احمدیہ، جامعتہ المبشرین، مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے محترم اساتذہ اور دیگر اکا بر سلسلہ و بزرگان جماعت تھے۔علاوہ ازیں ایک لبس قبل ازیں ربوہ سے سید داؤ د احمد صاحب کی قیادت میں بھی روانہ ہوئی جس میں حضرت امیر المومنین بن کے صاجزادگان خاندان مهدی موعود کے دیگر ارکان اور بامعہ احمدیہ، جامعتہ المبشرین اور مدرسہ احمدیہ کے بعض طلباء شامل تھے۔حضور معہ قافلہ آٹھ بجے کے قریب امیر جماعت ہائے احمد یہ سرگودہا مرزا عبد الحق صاحب ایڈووکیٹ کے ہاں پہنچے۔مرزا صاحب موصوف نے حضور اور دیگر ارکان قافلہ کو چائے پیش کی۔جس کے بعد حضورہ بحیرہ منٹ پر بھیرہ جالے کے لئے بھلوال کی طرف روانہ ہوئے لیکن ابھی ۲۵ میل کے قریب ہی سفر طے ہوا تھا کہ نہر کے ایک پل کے قریب ہی (جو سٹرک کو کاٹتی ہوئی گزر رہی تھی ملک صاحب خان صاحب نون معه رفقاء کار سٹرک پر راستہ روکے ہوئے کھڑے نظر آئے۔اور حضور کی کار جونہی ٹھہری اپنے گاؤں فتح آباد چلنے کے لئے کچھ اس اخلاص و لجاجت کے ساتھ التجاء کی کہ حضور اس تاریخی سفر کی مبارک ساعتوں میں سے چند لمحے فتح آباد کے لئے قربان کر دینے پر آمادہ ہو گئے۔یہاں سے قافلے کے دو حصے ہو گئے ہیں اور ایک کار تو سیدھی بھیرہ پہنچی اور تین کاریں منفتح آباد پہنچیں۔یہاں حضور نے کوئی بیس منٹ کے قریب آرام فرمایا۔بھیرہ والوں پر بھی اپنے وطن کی عظمت کا انکشاف شاید آج ہی ہوا تھا کہ ان کے وطن کی زمین الفضل ، جنوری ۱۹۳ مک کالم نکن