تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 165
حضرت امیر المومنین نے ان درد بھرے کلمات کے بعد احباب جماعت کو نہایت پرجوش الفاظ میں دوبارہ تاکیدی حکم دیا کہ وہ پیغام احمدیت پہنچانے کی طرف پوری توجہ دیں چنانچہ فرمایا :- یاد رکھو یہ واقعات تمہیں بیدار کرنے کے لئے ہیں۔تم کب سمجھو گے کہ تم ایک نامور کی جماعت ہو۔تم کب سمجھو گے کہ تم دنیا سے نرالے ہو۔تم کب مجھو گے کہ خدا تمہارے خون کے قطروں سے دنیا کی کھیتیوں کو نئے سرے سے سرسبزو شاداب کرنا چاہتا ہے۔جب تک تم یہ نہیں سمجھو گے نہخدا تعالیٰ کی مد د تمہارے پاس آئے گی اور نہ تم ترقی کا منہ دیکھ سکو گے۔تم مت جو کہ تبلیغ کے نتیجہ میں بہت کم لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کے نتیجہ میں بعض کے نزدیک مکہ میں صرف اتنی اور بعض کے نز دیک تین سو آدمی اسلام میں داخل ہوئے تھے۔گویا تیرہ سال کی تبلیغ سے ان دونوں میں سے جو تعداد بھی سمجھ لو انٹی سمجھو یا تین سو مجھو صرف اتنے لوگ ہی اسلام میں داخل ہوئے لیکن جب وقت آیا تو دو سال کے اندر اندر سارا عور مسلمان ہو گیا۔اصل میں یہ چیز بطور امتحان کے ہوتی ہے تبلیغ خدا اس لئے کرواتا ہے تا احد میں تم خوش ہو کر کہہ سکو کہ ہماری محنت اور ہماری قربانی اور ہماری جد وجہد اور ہماری تبلیغ کے نتیجہ میں دنیا مسلمان ہوئی ہے ورنہ دنیا کو مسلمان کرنا خدا کا کام ہے جس دن خدا یہ دیکھ لے گا کہ اسلام اور احدیت کے پھیلانے کے لئے جماعت نے ہرقسم کی قربانیاں کر لی ہیں۔اس نے اپنے بالوں کو بھی قربان کر دیا ہے۔اس نے اپنی بھانوں کو بھی قربان کر دیا ہے۔اسنے اپنی عزتوں کو بھی قربان کر دیا ہے۔اس نے اپنے رشتہ داروں کو بھی قربان کر دیا ہے۔اس نے اپنے اوقات کو بھی قربان کر دیا ہے۔اس نے اپنے وطنوں کو بھی قربان کر دیا ہے تو وہ اپنے فرشتوں سے کہے گا کہ جاؤ اور دنیا کے دلوں کو بدل دو اور لوگوں کو ان کے پاس کھینچ کر لے آؤ۔اور جب خدا کی مدد آجائے تو لوگ اس کے سلسلہ میں داخل ہونے سے رک نہیں سکتے۔وہ آپ فرماتا ہے اِذا جاء نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًالُ فَسَبَعْ بحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ٥ جب خدا دیکھتا ہے کہ اس جماعت نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا ہے تو وہ خود لوگوں کے دلوں کو بدل دیتا ہے ورنہ صرف تبلیغ سے لوگوں کے دلوں کو بدلا نہیں جاسکتا۔اگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ سے ہی سلمان لوگ ہوتے تو صرف عرب کے لئے ہی شاید کئی صدیاں درکار ہوتیں۔آپ کی تبلیغ سے ایک چھوٹی سی جماعت تیار ہوئی اور