تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 4
کرنا ہوگی۔نائب صدرا اپنے عمدہ کی حیثیت سے صدر انجین احمدیہ کا ممبر ہٹوا کر ے گا۔لہ پاکستانی دور کے اس پہلے سالانہ اجتماع میں نوجوانیان احمدیت نے تین دن خالص علمی ، ورزشی اور دینی مصروفیات میں گزارے اور حضرت مصلح موعود نے اس اجتماع میں احمدی نوجوانوں کو تین بار خطاب سے نوازا اور ان کو بہت سی قیمتی نصائح فرمائیں جو ہمیشہ مشعل راہ کا کام دیں گی مثلاً :۔ا خدام الاحمدیہ ایک روحانی جماعت ہے لہذا اس سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ روحانی تقاضوں کو پورا کر رہے۔- انتخاب میں محض اس لئے کوئی نام تجویز کرنا کہ حضرت یح موعود علیہ اسلام کی اولاد میں سے ہے خدام الاحمدیہ کی اس روح کے منافی ہے جس کے قیام کے لئے یہ تحریک جاری کی گئی ہے۔دیکھنا یہ چاہیے کہ اس کا عمل اسلام اور احمدیت کی شان کے مطابق ہے یا نہیں۔اہل بیت کے معاملے میں تو قرآن کریم کا ارشاد نہایت ہی سخت ہے کہ اگر وہ کوئی غلطی کریں گے تو انہیں دگنی سزا ملے گی پس کار جب تک مذہب کی صحیح روح کیسی شخص میں پیدا نہ ہو جائے اس وقت تک کوئی صحیح مومن نہیں ہو سکتا۔احمدی نوجوان کے معنے یہ ہیں کہ اسے اپنی زبان پر قابو ہو، وہ چھنتی ہو، وہ دیندار ہو ، وہ پنجوقتہ نمازی ہو ، وہ قربانی و ایثار کا مجسمہ ہو اور کلمہ حق کو زیادہ سے زیادہ پہنچانے میں نڈر ہو۔ہے فرمایا " فیشن اور سماج کے رواج تمہیں مرعوب نہ کرنے پائیں۔انبیاء کی تاریخ پر نظر دوڑا کر دیکھو وہ کہاں فیشن سے مرعوب ہوتے تھے ؟ انہوں نے کب نوکریاں پہلے جانے کے ڈر سے اپنے فرائض کی صحیح ادائیگی چھوڑ دی تھی؟ کلمہ حق کو ہر حال میں نڈروں کی طرح پہنچانے کے لئے تیار ہو جاؤ مجھے ہرگزہ ان عقل مندوں کی ضرورت نہیں جو قدم قدم پر لوگوں سے مرعوب ہوتے پھریں بلکہ مجھے ان دیوانوں اور پاگلوں کی ضرورت ہے جو خدا کی بات منوا کر ہی چھوڑیں۔اپنے اندر عمل کا جذبہ پیدا کرو اور دنیا والوں کے تمسخر کی پروا نہ کرو۔یا د رکھو تعریف وہی اچھی ہے جو آسمان پر ہو دنیا والوں کی تعریف اس آسمانی تعریف کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی ہے سے له الفضل امر ثبوت ۱۳۲۸۵/ نومبر ۱۹۳۹ه مث : الفضل یکم نبوت ۱۳۲۸۵ / نومبر ۱۹۹۹ حث الفضل - نبوت ۱۳۷۱/ نومبر ۱۹۳۹ مرمت به