تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 3
ام فصل اوّل دنیا کی مذہبی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے سلام یای ایتائے زمانہ میں ایمان لانے والے زیادہ تر جوان ہی ہوتے ہیں۔عہد شباب میں قومی مضبوط اور طاقت ور ہوتے ہیں اور دلوں میں ایک اُمنگ ولولہ اور جوش موجزن ہوتا ہے اس لئے وہ ایک لمبے عرصہ تک نور صداقت کو پھیلا سکتے اور اس کی اشاعت و ترور یکی میں حصہ لے سکتے ہیں۔خاص طور پر تبلیغی، اصلاحی اور جمالی سلسلوں کے لئے تو اور بھی ضروری ہے کہ اُن کے اندر آسمانی تعلیم کو مدت دراز تک اپنی اصلی صورت میں محفوظ رکھنے کے لئے تعلیم کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے کا معیب اور بابرکت نظام پورے تسلسل سے موجود رہے تا وہ اپنے ظاہری ڈھانچہ اورحقیقی روح دونوں کے ساتھ رائج و نافذ ہو اور پختہ بنیادوں پر جاری رہ سکے۔تاریخ مذاہب کے اسی انقلابی اصول اور اٹل فلسفہ کی بناء پر حضرت مصلح موعود ہو نے ہم۔ضروری ١٩٣٦ء ۱۹۳ء کو مجلس خدام الاحمدیہ جیسی عالمی تنظم کی بنیاد رکھی جس کے متحدہ ہندوستان میں اماری مار ستار تک) و سالانہ اجتماعات ہوئے۔پاکستان میں مجلس کا پہلا سالانہ مرکزی اجتماع ۳۰ ۳۱ / اضاء/ اکتوبر و یکم نبوت / نومبر کو ربوہ کے لیے آب و گیاہ اور وسیع میدان میں منعقد ہوا۔اس اجتماع کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ حضور نے مقدام الاحمدیہ کے نظام میں اس بنیادی تبدیلی کا اعلان فرمایا کہ خدام الاحمدیہ نے چونکہ دینداری کی ان تمام توقعات کو اس حد تک پورا نہیں کیا جس حد تک یکی چاہتا تھا اس لئے آئندہ کے لئے مجلس غدام الاحمدیہ کا صدر میں ہوا کروں گا اور شوری کی طرح اس کے اجتماع بھی میری ہی صدارت میں ہوا کریں گے اور نائب صدر کا کام محض تنفیذ احکام صدر ہوگا حضرت امیرالمونین نے اس تنظیمی تبدیلی کی نسبت یہ وضاحت فرمائی کہ اس کا تعلق میرے ساتھ ہے تمہارے ساتھ نہیں۔نائب صدر میر انمائندہ ہو گا لہذا تمہیں نائب صدر کے احکام کی پابندی صدر ہی کے احکام مجھے کہ