تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 132 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 132

١٣١ ہے جویہ کہے کہ میں تمام پاکستان کی مساب کا ذمہ دار ہوں کہ وہاں کے علماء احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھیں گے احمدی ان کے پیچھے نماز پڑھیں۔نہ وہ ایسا دعوی کر سکتے ہیں ان وانی کی بات علماء مانیں گے۔پھر ایسا مطالبہ جو وہ خود اپنے علماء سے نہیں منوا سکتے کس طرح تقویٰ کے مطابق ہو سکتا ہے۔آخر قومی کام قوم کے نمائندے کرتے ہیں اور نمائندے بھی اس محکمہ کے جس سے وہ سوال تعلق رکھتا ہو لیں جو نمائندہ نہیں اور دین کے بارہ میں علماء کا نمائندہ نہیں اسے ایسی باتیں ہی نہیں کرنی چاہئیں منصف مزاج آدمی کو اگر کوئی بات غلط معلوم ہوتی ہے تو پہلے وہ اپنی قوم سے غلطی منواتا ہے پھر دوسرے فرقہ کی طرف توجہ کرتا ہے۔اپنی معرکۃ الآرا تقریر کے دوسرے حصہ میں حضور نے فرمایا :- دوسرا سوال یہ کیا گیا ہے کہ احمدیت مسلمانوں کے لئے کیا مستقبل نہیں کر سکتی ہے میرے نزدیک یہ سوال صحیح الفاظ میں پیش نہیں کیا گیا۔احمدیت کوئی نیا دین نہیں کہ اس نے کوئی نیا پروگرام بنانا ہے احمدیت تو اسلام کی ترقی کی ایک کڑی ہے فوجی محکمہ بال ایک سکیم بناتا ہے اس کے حصے وہ مختلف افسروں کے سپرد کرتا ہے، ہر افسر اپنے اپنے حصّہ اور اپنے وقت کو پورا کرتا ہے، اجزاء بدلتے جاتے ہیں مگر سیکیم ایک ہی رہتی ہے کیونکہ ہر نیا بنر و پرانی سکیم کا ایک حصہ ہوتا ہے نئی شئے نہیں ہوتی پیس سوال یہ ایک ہی رہتی ہے ہرنیای و ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کا کیا مستقبل اس زمانہ کے بارہ میں تجویز کیا ہے جسے پورا کرنے کے لئے احمدیت کھڑی ہوئی ہے۔حضور نے فرما با ستقبل خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقر کر سکتے ہیں۔مرزا صاحب ایک نائب کمانڈر ہیں ان کا اور ان کی جماعت کا کام یہ ہے کہ کمانڈر کی مقرر کی ہوئی سکیم کو جاری کریں اور کامیابی تک پہنچائیں۔فوجی یہ مجھ لیں کہ خدا تعالیٰ بادشاہ ہے محمد رسول اللہ نے اللہ علیہ وسلم چیف آف دی جنرل سٹان ہیں اور مرزا صاحب لوکل کما نڈر ہیں مگر چونکہ یہ کمان جگہ کی بجائے وقت میں پھیلی ہوئی ہے۔لوکل کمانڈر کو اصولی پلین چیف آف دی جنرل سٹاف سے آتی ہے تفصیلات ان کے مطابق وہ خود طے کرتا ہے۔حضور نے فرمایا :- دعائے ابراہیمی میں محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا یہ کام بتایا گیا ہے کہ يَتْلُوا عَلَيْهِم أَيتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَ ير هم گویا تعلیم آیات تعلیم کتاب ، تعلیم حکمت اور تزکیہ (یعنی پاک کرنا اور اسلام کو پھیلانا ) ی تعلیم ہے جو مختلف زبانوں کے لحاظ سے تفصیلات میں تو بدلے گی لیکن اصول وہی رہیں گے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمیشہ جو کہا نڈر آئے ان کا کام یہ تھا کہ لوگوں کو اسلام پر قائم رکھیں یا دوسرے له البقره: ۱۲۹ *