تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 131 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 131

۱۳۰ و السلام پر دہلی اور امرتسر میں پتھراؤ کیا گیا۔لاہور میں آپ کی وفات پر بد ترین نمونہ دکھایا گیا اورمصنوعی لاش بنا کر اس پر پاخانہ پھینکا گیا، جوتیاں ماری گئیں اور احمدیوں کی شدید دل آزاری کی گئی ہم اس سلوک کی پرواہ نہیں کرتے لیکن جب ہم سے اس قسم کے سوالات کئے جاتے ہیں تو ہمیں یہ باتیں یاد آجاتی ہیں۔پھر مجھ پر سیالکوٹ میں پتھر برسائے گئے، میرے قتل کی تدبیریں کی گئیں، کابل میں ہمارہ کے احمدیوں کو سنگسار کیا گیا مصریں ہمارے ایک احمدی کو شہید کیا گیا۔گذشتہ سال اسی کو شٹر میں ڈاکٹر میر محمود کوخنجر مار کر شہید کر دیا گیا۔کیا اس کے بعد کہا سجا سکتا ہے کہ ہمارے ساتھ نمازیں کیوں نہیں پڑھتے۔کیا یہ سلوک نماز پڑھانے کی ہی تمہید ہے ؟ اس کے بعد حضور نے فرمایا اس مسئلہ کا ایک عملی پہلو بھی ہے۔کوئی بتائے کہ کیا مسلمانوں پر بھی کوئی مصیبت آئی ہے جس پر ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا ہو یا احمدی قومی کاموں میں دوسروں سے پیچھے رہے ہوں۔ملکانہ میں ارتداد ہوا تو ہم پہنچے ، بہار کے فسادات میں ہم نے مسلمانوں کی مدد کی پنجاب کے فسادات میں ہم نے مسلمانوں کی مدد کی، مسلم لیگ کی ہم نے مدد کی ہمشرقی پنجاب کے فسادات کے دوران ہم نے مسلمانوں کی مدد کی۔ان حالات میں نماز پڑھ لینے سے کیا فرق پڑ جائے گا اور اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔آخر غرض تو یہی ہے کہ اختلاف عقائد کے باوجود مسلمان انتقاد رکھیں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہم ہمیشہ اس میں حصہ لیتے رہے ہیں پھر کونسی نئی تبدیلی ہے جو اس مسئلہ سے پیدا ہو جائے گی۔حضور نے فرمایا :۔اس مسئلہ کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔قومی کام ایک ایک فرد یا جماعت میں تقسیم ہوتے ہیں۔فوج سے فوجی بات کر سکتے ہیں، پولیس سے پولیس والے اور مجسٹریٹ سے مجسٹریٹ۔نماز ایک مذہبی عقیدہ ہے اور اس کی امامت علماء کے سپرد ہے پس وہی حق رکھتے ہیں کہ اس کا تصفیہ کریں تعجب ہے کہ ایک فوجی افسر سے اگر فوجی امور کے تصفیہ کے لئے کوئی : دوسرا بات کرے تو وہ کہیں گے یہ فوجی امر ہے۔بالمقابل فوجی افسر بات کرے لیکن نماز کا تصفیہ ایک فوجی افسر جسے قوم کی طرف سے بولنے کا حق نہ میں ایک سیاسی لیڈر جیسے قوم کی طرف سے مذہبی فیصلہ کا اختیار نہیں وہ تصفیہ چاہتا ہے حالانکہ یہ امر دونوں فریق کے علماء میں طے ہو سکتا ہے۔پس آپ اپنے علماء میں تحریک کریں کہ وہ احمدیوں سے کہیں کہ ہم آپ کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں آپ ہمارے پیچھے نماز پڑھیں۔ان کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جائے تو جماعت کے علماء ان سے بات کر سکتے ہیں ورنہ تعلیم یافتہ طبقہ میں سے کونسا شخص