تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 130 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 130

۱۲۹ ہمارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تو ہر ایک کے دل میں خیال پیدا ہوتا ہے یکیں ان کو سمجھاتا ہوں اور جب وہ ہمارے پاس آتے ہیں تو ہماری تبلیغ کا رستہ کھل جاتا ہے اور اس طرح سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں کو احمدیت کی واقفیت ہو جاتی ہے۔تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔اس مسئلہ کا ایک واقعاتی پہلو بھی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علماء کے فتونی کفر کے کئی سال بعد تک نماز کو منع نہیں کیا بلکہ خود بھی ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے مگر علماء اپنے فتوی کی شدت میں بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ انہوں نے اپنی مسجدوں پر لکھ کر لگا دیا کہ اس مسجد میں گنتے مرزائی کو واصل ہونے کی اجازت نہیں، جس جگہ احمدیوں کا پیر پڑ جاتا اسے ناپاک سمجھا جاتا اور پانی سے دھویا جاتا۔کئی جگہ مسجدوں کی صفیں اس لئے جلا دی گئیں کہ ان پر کسی احمدی نے نماز پڑھ لی تھی۔جب انہوں نے اس معامہ کو انتہا تک پہنچادیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی حکم دے دیا کہ اب ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے جیسے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم مکہ میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے پھر مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں بھی سترہ نہینے تک آپ نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں مگر یہودی اور عیسائی ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ ہم سے ڈر کر اس طرف نمازیں پڑھی جاتی ہیں آخر خدا نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دے دیا۔اس پر یہود نے شور مچا دیا کہ دیکھو کتنا بڑا ظلم ہے اتنا پرانا قبلہ تھا مگر اسے چھوڑ دیا گیا۔گویا جب تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے نعوذ باللہ ڈرپوک کہلائے اور جب چھوڑا تو ظالم بن گئے یہی حالت علماء کی ہے کئی سال تک ہماری جماعت انکے پیچھے نمازیں پڑھتی رہی مگر یہ لوگ یہی کہتے رہے کہ احمدی اتنے ناپاک ہیں کہ اگر یہ سجدیں بھی داخل ہو جائیں تو مسجد کو صاف کرنا چاہئیے۔اس پہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پیچھے نمازیں پڑھنے سے حکما منع کر دیا۔پس جب خود علماء نے ہمارے خلاف فتوے دئے ہیں اور اب تک انہوں نے اپنے فتووں کو واپس نہیں لیا تو احمد یوں پر کیا الزام ہے۔حضور نے فرمایا علماء کی طرف سے جو سلوک احمدی جماعت سے ہوتا رہا ہے وہ بھی اس مطالبہ کو بہائر نہیں کرتا۔نماز علماء پڑھاتے ہیں اور ان کا یہ حال ہے کہ شروع سے ہمیں دُکھ دیتے چلے آئے ہیں سب سے پہلے احمدیوں کے واجب القتل ہونے کا انہوں نے فتویٰ دیا۔پھر حضرت مسیح موعود علی الصلوة