تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 129 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 129

۱۲۸ رسول کریم صلے اللہ علیہ سلم کی بات کیوں مانتے ہو۔دوم، رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ امام وہ ہو جو اتنی ہو۔اس حکم کی موجودگی میں بھی یہ مطالبہ خلاف عقل ہے کیونکہ جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ و خدا تعالیٰ کے ایک مامور پر ایمان رکھتی ہے اور جب اس کا یہ عقیدہ ہے تو لازمی طور پر اسے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ دوسروں سے تقویٰ میں، طہارتمیں اور پاکیزگی میں افضل ہے اور جب جماعت احمدیہ کے لوگ دوسروں سے اتنی ہوئے اور رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ امام وہ ہونا چاہیئے جو اتھی ہو تو یہ کس طرح مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ انتفی شخص دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے۔آخر وہ اپنے عقیدہ کے مطابق مسیح و مہدی پر ایمان رکھتے ہیں۔کیا سیح و مہدی کو ماننے والے کا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو انفلی سمجھے یہ حضور نے فرمایا :- اس مسئلہ کا ایک عقلی پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ خلف :۔ہر مامور کو ماننے والے ابتداء میں تھوڑے ہوتے ہیں، تھوڑے ماننے والے کثرت سے ملیں تو اپنا جو ہر کھو بیٹھتے ہیں۔پس ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے الگ رہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حکم دیا ہے کہ کونوا مع الصّادِقِين تم ہمیشہ سچوں کے ساتھ بیٹھا کرو کیونکہ انسان اپنے ہم میلیس کے اخلاق اور اس کی عادات کو اختیار کر لیتا ہے۔ب :۔پھر مامور کا سوال بھی جائے دو کم از کم اتنا تو ہر ایک شاعر تسلیم کرتا ہے کہ احمدی جماعت بنیا امر میں تبلیغ کرتی ہے اور اس میں وہ دوسروں سے ہزاروں گنے زیادہ ہے اگر وہ دوسروں میں جذب ہو جائے تو یہ خدمت اسلام ختم ہو جائے گی اور جس طرح اور لوگ اپنی طاقتوں اور اپنے روپیہ کو دنیوی کاموں میں صرف کر رہے ہیں وہ بھی دنیوی کاموں پر روپیہ وغیرہ صرف کرنے لگ جائے گی۔پس اس نیکی اور خدمت اسلام کا بھی تقاضا ہے کہ احمدی دوسروں سے الگ رہیں۔ج :۔یہ تو احمدی جماعت سے امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے آپ کو جھوٹا کہے وہ ہر حال اپنے آپ کو سچا کہے گی اور وہ اپنے آپ کو سچا کہتی ہے تو اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اس سچ کو ہر ایک تک پہنچائے۔اب اس کے لئے کوئی طبعی ذرائع ہونے چاہیئے تھے تاکہ لوگوں کو احمدیت کے بارے میں سننے کا شوق پیدا ہو۔نماز وغیرہ مسائل ہی ہیں جو لوگوں کو ادھر تو جہ دلاتے ہیں جب لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ