تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 128
۱۲۷ اور ملٹری کے اعلیٰ افسر بھی شامل تھے۔حضور نے اپنے خطاب میں درج ذیل دو سوالات کے نہایت شرح وبسط سے جواب دیئے:۔ا احمد بی مسلمان دوسروں کے ساتھ نمازیں کیوں نہیں پڑھتے ؟ احمدیت مسلمانوں کے لئے کیا مستقبل پیش کرتی ہے ؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے حضور نے مذہبی، عقلی، واقعاتی اور عملی پہلوؤں کے اعتبار سے اس کے مدلل اور عارفانہ جواب دئے۔چنانچہ حضور نے فرمایا یہ سوال اپنے اندر کئی پہلو رکھتا ہے جن میں سے ایک اس کا مذہبی پہلو ہے ہمارا بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ ان پیش گوئیوں کے مطابق دنیا میں مبعوث ہوئے ہیں جو مسیح و صدی کی آمد کے متعلق اسلام میں پائی جاتی تھیں۔یہ سوال الگ ہے کہ ان کا دعوی صحیح تھا یا غلط ہر حال جب ہم انہیں مسیح و مہدی تسلیم کرتے ہیں تولا ہما ہم سے انہی باتوں کی امید کی جائے گی جو رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے آنے والے کے متعلق بیان فرمائی ہیں۔اور جب ہم احادیث کو دیکھتے ہیں تو ان میں تمہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نظر آتا ہے کہ کیف اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ وا مَا مُكُمْ مِنْكُمْ تم اس وقت کیسے اچھے حال میں ہو گے جب بیج تم میں نازل ہوگا اور اس وقت تمہیں نمازیں پڑھانے والا تم ہی میں سے ہو گا۔دوسری روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ واقَكُمْ مِنْكُمْ تمہاری نماز کی امامت ایسا شخص کرے گا جو تم میں سے ہوگا۔اب اس کے دو ہی معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ سلمانوں کو اس وقت مسلمان ہی نماز پڑھایا کریں گے اور دوسرے یہ کہ مسیح کی جماعت کو میسج کے پیرو ہی نمازیں پڑھایا کریں گے۔پہلے معنی ایسے ہیں جو یہاں چسپاں نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ کہنا کہ مسلمانوں کو مسلمان ہی نمازیں پڑھایا کریں گے اس کے یعنی ہیں کہ گویا پہلے عیسائی اور یہودی اور زرتشتی بھی ان کے امام ہوا کرتے تھے مگر مسیح کے آنے کے بعد صرف مسلمان ہی نمازیں پڑھایا کریں گے۔پس یعنی تو بالبد است باطل ہیں لازماً اس کے دوسرے معنی ہی ہو سکتے ہیں کرسی کو ماننے والوں کا امام اپنی میں سے ہو گا۔پس یہ تو سوال ہو سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب سیح موعود ہیں یا نہیں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ اگر وہ مسیح موعود ہیں تو ان کی جماعت دوسروں کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتی یا پھر یہ بحث ہو سکتی ہے کہ یہ حدیث غلط ہے یا یہ کہ اس کا کچھ اور مطلب ہے مگر نماز کا مطالبہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ تم