تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 116
غور کیا جائے کہ کلر اور سیم یا پانی کے بغیر کونسی اجناس پر ورش پا سکتی ہیں۔اور ہمیں وہ بیچ نکالنے پڑیں گے جو کلر اور سیم میں یا بغیر پانی کے بھی پرورش پاسکیں اور نہروں کو محدود کیا جائے تاکہ ہمارا ملک دلدل بن جانے سے بچ جائے ورنہ جس رنگ میں ہمارے ملک میں کیم بڑھ رہی ہے تیس یا پینتیس سال میں اس رفتار کے ساتھ اس کی حالت ایسی خطرناک ہو جائے گی کہ ملک کے لئے خوراک مہیا کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔۹ - افتادہ زمینوں کے صحیح استعمال کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔غیر مسلموں کی متروکہ زمین کا بھی بہت سا حصہ نکلوانے کے قابل ہے۔۱۰- اگر گورنمنٹ تحقیقات کرائے تو اسے معلوم ہو گا کہ سندھ میں کئی لاکھ غیر پاکستانی زمیندارہ یا غیر زمیندارہ مزدوری کر رہا ہے۔یہ لوگ بیکانیر، جھیلی ، جودھ پور، جے پور، کچھ اور تقتل کے علاقہ سے آتے ہیں اور مقاطعہ پر زمینیں لے کر کاشت کرتے ہیں یا زمیندارہ مزدوری کرتے ہیں۔یہ لوگ جو ادھر سے آتے ہیں بعض صورتوں میں بڑے منظم ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں کانگرس کے مقر کر وہ افسران کے ساتھ آتے ہیں نیطرہ کے وقت میں یہ لاکھوں کی آبادی من است ہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔کیا وجہ ہے کہ اپنے ملک کی آبادی کے لئے گزارہ کی صورت نہ پیدا کی بجائے اور بغیر ملک کے لوگوں کو یہ موقع دیا جائے۔کاشت کار کی آمد ایک کافی حد خود کام کیوں ہو جاتا ہے اگراس کو بچایاجائے تو اس سے بھی زمیندار کی حالت بہتر ہو جائے گی۔۱۲- کاشت کار فخر ومباہات اور شادی بیاہ پر بہت خرچ کر دیتا ہے جس سے اسے بچنا چاہیئے۔۱۳ حکومت کو ایسے ذرائع سوچنے چاہئیں جن سے کاشت کاروں کو مقدمہ بازی کی لعنت سے نجات ملے صحیح طور پر عوام کی تربیت کی جائے تو مقدمات کم ہوں گے اور گورنمنٹ اور کاشتکا دونوں کا روپیہ بچے گا۔۱۳- اگر تعالین باہمی کی انجمنیں بنائی جائیں اور ان کو سودی اصول کی بجائے تجارتی بنیاد پر چھلایا جائے اور گورنمنٹ ایک حد تک روپے یا اجناس کی وصولی میں مدد کرے تو کاشت کار کی کئی فوری ضروریات پوری ہوسکتی ہیں اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔