تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 115
۱۱۴ وسطی جرمنی میں جانا چاہیئے ممکن ہے فرانس اسپین، شام اور لبنان سے بھی اس بارہ میں ہم کو کچھ مدد مل سکے جو وفدان ملکوں کے دورہ کے لئے جائیں ان کو عملی طور پر ایسے کھیتوں میں کام کرنے کی ہدایت ہو جن کی گل زمین دنل پندرہ ایکڑ سے زیادہ نہ ہو۔وہ عملی طور پر معلوم کریں کہ انکے مالکوں کی کیا حالت ہے؟ اگر ہمارے ملک سے اچھی حالت ہے تو وہ کس ذریعہ سے بنائی بھائی ہے اور کہاں سے اس کے لئے آمد پیدا کی جاتی ہے ؟ ملکی صنعت و حرفت کو ترقی دی جائے اور اسے صرف بڑے بڑے شہروں میں محدود کرنے کی بجائے پورے ملک میں ایسے طریق پر پھیلایا جائے کہ زمیندارہ آبادی اپنے کاموں کو چھوڑے بغیر صنعت و حرفت میں ترقی کر سکے اور اس کی دلچسپیاں اپنی زراعت کے ساتھ بھی باقی رہیں۔ه - کاشت کار کو یہ بتانے کے لئے پراپیگینڈا کی مہم چلائی جائے کہ مزدوری سے ہر گز نفرت نہیں کی جانی چاہیے۔4 - زمین کے مالک کاشت کاروں سے جو جاہرانہ اور ظالمانہ سلوک روا رکھتے ہیں اس کی روک تھام کے لئے قانون بنایا جائے۔بیگار بند کرانے کے لئے سزائیں مقرر کی جائیں حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ مزار عین اور زمین کے مالکوں سے مشورہ کر کے یہ قانون بھی پاس کرا دے کہ ہر زمین کا مقاطعہ تین سے چھ سال تک کے لئے ہو گا۔اس مقررہ عرصہ سے پہلے کسی مزارع کو زمین سے بے دخل نہیں کیا جا سکے گا۔۷ - ابتدا ر جب پنجاب اور سندھ میں شہری کھودی گئیں تو ماہرین سائنس نے قبل از وقت بتا دیا تھا کہ اتنے اتنے سال میں یہاں سیم شروع ہو جائے گی لیکن باوجود اس کے حکومت کی طرف سے اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری وقت پر نہ کی گئی۔اول تو نہریں بناتے وقت ایسی احتیاطیں اختیار کی جانی چاہئیں کہ سیم یا تو پیدا نہ ہو یا کم سے کم پیدا ہو لیکن اگر اس کے لئے بھاری اخرا سایا درکار ہوں تو کم سے کم معالجاتی تدابیر تو فوراً ہی شروع ہو جانی چاہئیں۔۔حکومت کو کاشت کے متعلق صحیح اور بر وقت راہ نمائی کرنی چاہیئے۔تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ عام طور پر ایک ہی جگہ کا بیج استعمال کرتے رہنا فصل کو نقصان پہنچاتا ہے۔اچھی فصلوں کے لئے ضروری ہے کہ مختلف دوسری جگہوں سے بیچ منگوا کر ڈالا جائے۔پھر اس معاملہ پر بھی