تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 114 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 114

اصول وضع کئے اور فیصلہ کیا کہ بڑی بڑی زمینداریائی اور جاگیر داری بہر حال مجلد ختم کر دی جائے۔اور صوبجاتی حکومتوں کو توجہ دلائی کہ وضع کردہ اصولوں کو بھاری کرنے کی کوشش کریں۔جہاں تک حکومت وقت کے نمائندوں کے فیصلوں کا تعلق تھا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو اس پر بحث کرنے کی چنداں ضرورت نہ تھی کیونکہ آپ کا یہ قطعی ملک تھا کہ سیاسی امور سیاسی لوگوں پر ہی چھوڑ دینے چاہئیں لیکن ایک بین الا قوامی مذہبی جماعت کے دینی راہ نما کی حیثیت سے آپ نے یہ گوارا نہ کیا کہ اسلام کے نام پر کوئی ایسی بات کہی جائے جو اسلام سے ثابت نہ ہو چنا نچہ آپ نے اسی اہم مذہبی فرض کی بجا آوری کے لئے " اسلام اور ملکیت زمین کے نام سے ایک پرواز معلومات کتاب سپر و فیلم فرمائی جو صلح ۱۳۳۹ / جنوری نظام میں شائع ہوئی۔یہ کتاب بارہ ابواب پر تمل تھی اور اس میکنی ملکیت اشیاء کے قانون ، ملکیت زمین کے اصول ، جاگیرداری، وسیع رقبہ اراضی کی ملکیت ، لگان اور بٹائی پر زمین دینے اور حکومت کا عوام کی جائیداد پر جبراً قبضہ کرنے کے مسائل پر خالص اسلامی نقطہ نگاہ سے روشنی ڈالی نیز سندھ زمیندارہ کمیٹی اورمسلم لیگ کی زمیندار کیوں کی بعض خامیوں پر بھی عقلی بحث کی۔اور آخر میں کسانوں اور کاشت کاروں کی حالت زار کی اصلاح کے لئے ایسی مفید تجاویز بتائیں جن سے ملک میں رائج شدہ فرسودہ زمیندارہ نظام کی کایا پلٹ سکتی تھی۔ان تجاویہ کا خلاصہ یہ تھا :- ا۔زمیندار ان تمام طریقوں کو استعمال کریں جن کے ذرایعہ مغربی ممالک کے زمیندار آمدن پیدا کرتے ہیں۔مثلاً غیر ملکی کاشت کار اپنی مملوکہ جائداد کے ہر حصہ کو ہر طریق سے آمدن پیدا کرنے میں لگاتا ہے اور اپنے فارم میں باغ لگا کر شہد کی مکھیاں ، مرغیاں اور گائے پال کر اور علاوہ غلہ کے سبزی ترکاری پیدا کر کے زمین کے چپہ چپتہ کو اس طرح استعمال کرتا ہے کہ زمین سونا اُگلنے لگتی ہے۔- حکومت دیہات میں سوختنی اور تعمیری لکڑی کے ذخائر قائم کرنے کا انتظام کرے تا کسانوں، کاشت کاروں اور زمینداروں کا کھاد این دھن کی بجائے پیداوار بڑھانے کے کام آسکے۔۔ہمیں اپنے زمیندارہ نظام کی اصلاح کے لئے امریکہ اور روس کی بجائے (جہاں وسیع اور گھاری زمینیں پڑی ہوئی ہیں یا آبادی کے وسیع مواقع موجود ہیں، اٹلی ، جنوبی انگلستان اور